Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
263 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
مجلس(بیٹھک)خواہِشِ نفسانی کے بِغیر نہ ہو گی۔ پس جو شخص وہ زمانہ پائے اورصَبْر کرے اور اپنے نفس کی حفاظت کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے پچاس صدِّیقین جیسا ثواب عطا کریگا۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۲۲۵)
غیبت خور سے توکُتّا ہی بھلا
حضرتِ سیِّدُنا حماد بن زَید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:میں ایک بار حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینارعلیہ ر حمۃُ اللہِ الغفار کی خدمت میں حاضِر ہوا، ان کے سامنے ایک کُتّا دیکھ کر میں نے اسے بھگا نا چاہا تو فرمایا:اے حمّاد!اسے چھوڑ دو یقینا یہ اُس بُرے ساتھی سے بہترہے جو میرے پاس بیٹھ کر لوگوں کی غیبت کرتا ہے۔
 (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۲۲۷)
تو کُتّا مجھ جیسے سینکڑوں سے اچھا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!ہمارے بُزُرگوں کی بھی کیا خوب مَدَنی سوچ ہوا کرتی تھی!وہ غیبت خور جو بِغیر توبہ کے مرجائے اور اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ناراضی کی صورت میں واصلِ جہنَّم ہوجائے
وَاللہ بِاللہ تَاللہ
ایسے آدمی سے تو کتّا ہی کروڑوں دَرَجے بہتر ہے کہ اُس کے لئے دوزخ کا عذاب نہیں۔تذکرۃُ الاولیاء میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ ر حمۃ اللہِ القوی کی خدمتِ باعظمت میں کسی نے سوال کیا:آپ بہتر ہیں یا کُتّا؟ فرمایا:اگر عذاب سے بچ گیا تو میں ورنہ کتّا مجھ جیسے سینکڑوں سے افضل ہے ۔
  (تذکِرۃُ الاولیاء حصّہ اوّل ص۴۳)
آپ کی گلیوں کے کُتّے مجھ سے تو اچّھے رہے

ہے سُکوں  اُن کو  مُیَسَّر  سبزگنبد  دیکھ  کر
حسن بصری اور ایک گوشہ نشین
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ ر حمۃ اللہِ القوی فرماتے ہیں:ایک شخص کو لوگوں سے الگ تھلگ رہنے والاپا کر میں نے اس کا سبب پوچھا:تو اس نے کہا:میں بَہُت اَہم کام میں مشغول رہتا ہوں۔ میں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ کہنے لگا: میں ہر صبح اپنے آپ کو
Flag Counter