Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
262 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
ہر ہر فرد غیبت گو نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر ذی شُعُور اندازہ لگا سکتا ہے کہ آج کل جب تمام ہی برائیاں عُروجِ بام پر ہیں تو پھر'' غیبت''کیوں پیچھے رہے گی!خیر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر ہر فرد لازِمی طور پر غیبت میں لگا ہوا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں سے ہرگز دنیا خالی نہیں۔ تو جو واقِعی نیک بندے ہوں اُن کی صحبت بابَرَکت سے ضَرور فیض حاصِل کرنا چاہے اور جو بظاہر مذہبی وَضع قَطْع رکھتے ہوں اور دیکھنے میں ''نیک صورت''ہوں مگر غیبتوں ، چغلیوں ، بدگمانیوں،تہمتوں وغیرہ وغیرہ گناہوں کی گندگیوں اور غلاظتوں میں لتھڑے رہتے ہوں ان کی مجلسوں( بیٹھکوں) سے دُور رہنے ہی میں سلامتی بلکہ ایسوں سے دور رہنا شرعاً بھی ضَروری ہے۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت ''حصّہ 16 صَفْحَہ164پر ہے:عِمْرَان بن حِطَّان سے روایت کی، کہتے ہیں:میں(حضرتِ سیِّدُنا)ابوذَرّ (غِفاری)رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا، انھیں کالی کملی اَوڑھے ہوئے مسجِد میں تنہا بیٹھا ہوا دیکھا۔ میں نے کہا:ابوذر!یہ تنہائی کیسی؟ انہوں نے کہا:میں نے رسولُ اﷲ(عَزَّوَجَلَّ و )صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا:تنہائی اچّھی ہے بُرے ہم نشین سے اور ہم نشینِ صالح(یعنی نیک رفیق)تنہائی سے بہتر ہے اور اچھی بات بولنا خاموشی سے بہتر ہے اور بری بات بولنے سے چُپ رہنا بہتر ہے۔
(شُعَبُ الْاِیمان ج۴ ص۲۵۶حدیث ۴۹۹۳)
حال ہمارا کیسا زَبوں ہے اور وہ کیسا اور وہ کیوں ہے

سب  ہے تم  پر  روشن  شاہا  صلَّی اللہُ علیکَ وَسلَّم

                              (سامانِ بخشش)
50صِدّیقین کا ثواب
امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا
كَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْھَہُ  الْکَرِیْم
فرماتے ہیں:عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کی بادشاہی(حکومت)قتل اور ظلم کے بِغیر نہیں ہو گی۔ اورمالداری تکبُّر اور بُخل سے خالی نہ ہو گی اور لوگوں کے ساتھ
Flag Counter