Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
260 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
آپ سے جھوٹ بولوں!یاتو آپ یہاں سے تشریف لے جایئے یا میں چلا جاتا ہوں۔ (سبحٰن اللہ سیِّدنا فُضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دل بہلانے اور وقت گزارنے کے لئے مِل بیٹھنے والوں کانقشہ ہی کھینچ کردکھادیا کہ جو لوگ ''ٹائم پاس ''کرنے کیلئے بیٹھتے ہیں وہ عُمُوماً ایک دوسرے کیلئے زینتیں اور بناوٹیں کرتے اور خوب جھوٹی گپّیں ہانکتے ہیں!)بعض عُلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے مَحَبَّت کرتا ہے تو اسے گُمنام کر دیتا ہے۔
 (ماخوذ از:اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ ص۲۸۷)
فقط تیرا طالب ہوں ہرگز نہیں ہوں     طلبگارِ  جاہ  وحَشم  یاالٰہی 

نہ دے  تاجِ شاہی نہ دے بادشاہی      بنادے گدائے حرم یاالٰہی
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مَیل جول کا اہل کون؟
لوگوں سے میل جول کے اَہل کی مثال دیتے ہو ئے حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا طاؤس علیہ رَحمَۃُ اللہِ القُدّوس خلیفہ وقت ہَشّام کے پاس تشریف لے گئے اور پوچھا:ہشّام !کیسے ہو؟اس نے غصّے سے کہا :آپ نے مجھے''امیرُ المؤمنین ''کہہ کر مخاطب کیوں نہیں کیا؟ فرمایا: اس لئے کہ تمام مسلمان تمہاری خِلافت سے مُتَّفِق نہیں ہیں ، لہٰذا میں ڈرا کہ تمہیں امیرُالمؤمنین کہنا کہیں جھوٹ نہ ٹھہرے ۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی اِس حکایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:لہٰذا جو آدمی اس قَدَرکَھرا اور صاف گو ہو اور اس قسم کی باتوں(مَثَلاً غیبتوں ، چغلیوں ، ریاکاریوں،خود پسندیوں، خوشامدوں وغیرہ وغیرہ )سے بچ سکتا ہو وہ بے شک لوگوں میں مِل جُل کر رہے ورنہ اپنا نام مُنافِقوں کی فِہرست میں لکھوانے پر راضی ہو جائے۔
(ماخوذ از :اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ ص۲۸۷)
Flag Counter