غیبت سَمیت مُتَعَدِّد گناہوں سے حفاظت کا بہترین نُسخہ لوگوں سے الگ تھلگ رہنا ہے چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کے فرمانِ عالی کا خلاصہ ہے:عام لوگوں کی عُمُوماً عادت ہوتی ہے کہ جہاں کہیں مل کے بیٹھے کہ کسی نہ کسی کی''عزَّت ''کے پیچھے پڑے یعنی غیبتوں او ر چغلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا کیوں کہ ان کی غذا یِہی ہے!ایسے لوگوں کا چُونکہ اکیلے میں دل اُکتا تا ہے لہٰذا مِل جُل کر گپ شپ اور ''تیری میری''کرکے ''ٹائم پاس''کرتے ہیں اگر آپ ایسوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو گناہوں بھری باتوں میں بھی ہاں میں ہاں ملانی پڑے گی اور یوں گنہگار اور عذاب ِ نار کے حقدار ہوتے رہیں گے ، اگر''ہاں ،نا''کئے بِغیر خاموش بیٹھے رہیں گے تب بھی نہیں بچ سکتے کیوں کہ بِغیر شرعی مجبوری کے غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والے ہی کی طرح گنہگار ہوتا ہے !اگر آپ ان کی گناہوں بھری باتوں پر اعتراض کریں گے تو یہ آپ کے خلاف ہو جائیں گے ، نتیجۃً وہ آپ کی بھی غیبتوں اور دل آزاریوں پر اُتر آئیں گے ۔