Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
259 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
فالتو بیٹھکوں سے دور رہئے
غیبت سَمیت مُتَعَدِّد گناہوں سے حفاظت کا بہترین نُسخہ لوگوں سے الگ تھلگ رہنا ہے چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کے فرمانِ عالی کا خلاصہ ہے:عام لوگوں کی عُمُوماً عادت ہوتی ہے کہ جہاں کہیں مل کے بیٹھے کہ کسی نہ کسی کی''عزَّت ''کے پیچھے پڑے یعنی غیبتوں او ر چغلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا کیوں کہ ان کی غذا یِہی ہے!ایسے لوگوں کا چُونکہ اکیلے میں دل اُکتا تا ہے لہٰذا مِل جُل کر گپ شپ اور ''تیری میری''کرکے ''ٹائم پاس''کرتے ہیں اگر آپ ایسوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو گناہوں بھری باتوں میں بھی ہاں میں ہاں ملانی پڑے گی اور یوں گنہگار اور عذاب ِ نار کے حقدار ہوتے رہیں گے ، اگر''ہاں ،نا''کئے بِغیر خاموش بیٹھے رہیں گے تب بھی نہیں بچ سکتے کیوں کہ بِغیر شرعی مجبوری کے غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والے ہی کی طرح گنہگار ہوتا ہے !اگر آپ ان کی گناہوں بھری باتوں پر اعتراض کریں گے تو یہ آپ کے خلاف ہو جائیں گے ، نتیجۃً وہ آپ کی بھی غیبتوں اور دل آزاریوں پر اُتر آئیں گے ۔
(ماخوذ از:اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ ص۲۸۶)
مجھے  اپنا عاشق بنا کر بنا دے        تو سر تا پا  تصویرِ  غم یاالٰہی

جو عشقِ محمد میں آنسو بہائے         عطا کر دے وہ چشمِ نَم یاالٰہی
''ٹائم پاس ''کرنے کی بیٹھک کانقشہ پیش کرنے والی حکایت
حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجِدُ الحرام شریف(مکّۃُالمکرَّمہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً)میں تنہا تشریف فرما تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک دوست آیا،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا :کیسے آنا ہوا؟جواب دیا: اے ابو علی !بس یُوں ہی ذرا دل بہلانے کے لئے آگیا ہوں۔ فرمایا:اللہ کی قسم !یہ تو بڑی وَحشت دلانے والی بات ہے!کیاآپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے لئے زینت اختیار کروں اورآپ میرے لیے اختیار کریں،آپ مجھ سے جھوٹ بولیں اور میں
Flag Counter