Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
258 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
کہی، بس اسی لئے مغفِرت ہو گئی۔
(شَرْحُ الصُّدُور ص۲۸۲،کتابُ المَنامات مع موسوعۃ ابن اَبِی الدُّنْیا ج۳ ص ۱۵۶رقم ۳۳۷)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ نیک بندوں کے ساتھ دعا میں شرکت بَہُت بڑی سعادت ہے۔ لہٰذا سنّتوں بھرے اجتِماع وغیرہ میں ''دُعا''میں دل جمعی کے ساتھ شرکت کیجئے نہ جانے کس کی قُربت اور کس کی صحبت اور کس کی رِقَّت آمیز آمین کی بَرَکت سے اپنا بیڑا پار ہوجائے۔
مجھے بے حساب بخش دے میرے مولیٰ 

تجھے  واسِطہ  نیک  بندوں  کا  یا رب
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
علاج نمبر 2
ذاتی دوستیوں میں غیبتوں سے بچنا دشوار ہے
ذاتی دوستیوں سے قَطْعاًاِجتِناب(یعنی پرہیز)کیا جائے کیوں کہ اب اکثرماحول ایسا ہو گیاہے کہ جب دو ملکر تیسرے کامنفی(NEGATIVE)تذکِرہ شروع کریں تو قریب قریب ناممکن ہے کہ غیبت ، چُغلی ، بدگُمانی و الزام تراشی وغیرہ سے بچ نکلیں۔ ان فالتوصُحبتوں میں سنّتوں بھری گفتگو کم اور ملکی وسیاسی حالات پر تبصرہ زیادہ ہوتا ہے ، گویا سارے ملک کانِظام یِہی چلا رہے ہوں! لہٰذا کبھی کسی وَزیر پر تنقید کریں گے تو کبھی کسی لیڈر پر اور یہ دوست جب اپنے اپنے گھر وں کی طرف پلٹیں گے تو ''بد گمانیوں ، غیبتوں اورتہمتوں کے گناہوں کا ٹوکرا''بھی ہر ایک کے ساتھ جائے گا !حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:تم پر ذِکرُاﷲ عَزَّوَجَلَّ لازِم ہے کہ بے شک اِس میں شِفاء ہے اور لوگوں کے تذکروں (مَثَلاً غیبت)سے بچو کہ یہ بیماری ہے۔
 (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۷۷ )
Flag Counter