مجھے بے حساب بخش دے میرے مولیٰ
تجھے واسِطہ نیک بندوں کا یا رب
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ذاتی دوستیوں میں غیبتوں سے بچنا دشوار ہے
ذاتی دوستیوں سے قَطْعاًاِجتِناب(یعنی پرہیز)کیا جائے کیوں کہ اب اکثرماحول ایسا ہو گیاہے کہ جب دو ملکر تیسرے کامنفی(NEGATIVE)تذکِرہ شروع کریں تو قریب قریب ناممکن ہے کہ غیبت ، چُغلی ، بدگُمانی و الزام تراشی وغیرہ سے بچ نکلیں۔ ان فالتوصُحبتوں میں سنّتوں بھری گفتگو کم اور ملکی وسیاسی حالات پر تبصرہ زیادہ ہوتا ہے ، گویا سارے ملک کانِظام یِہی چلا رہے ہوں! لہٰذا کبھی کسی وَزیر پر تنقید کریں گے تو کبھی کسی لیڈر پر اور یہ دوست جب اپنے اپنے گھر وں کی طرف پلٹیں گے تو ''بد گمانیوں ، غیبتوں اورتہمتوں کے گناہوں کا ٹوکرا''بھی ہر ایک کے ساتھ جائے گا !حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:تم پر ذِکرُاﷲ عَزَّوَجَلَّ لازِم ہے کہ بے شک اِس میں شِفاء ہے اور لوگوں کے تذکروں (مَثَلاً غیبت)سے بچو کہ یہ بیماری ہے۔
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۷۷ )