دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرَکت سے آئے دن بُت پرستوں کی اسلام آوری کی ترکیبیں بنتی رہتی ہیں، ان کیلئے ذیل کے دو سوال جواب نہایت کار آمد ہیں:
مُشرِکہ کا شوہر مسلمان ہوگیا نکاح کا کیا بنا؟
اگر شوہر مسلمان ہو گیا اور بیوی بُت پرست ہے تو بیوی کے ساتھ نِکاح برقرار رہا یا ٹوٹ گیا؟
صدرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُ الطَّریقہ، حضرتِ علامہ مَوْلانامُفتی محمد امجَد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:عورت اگر مُشرِکہ ہے تو مسلمان کی زَوجِیت میں نہیں رہ سکتی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّھُمْ وَ لَا ھُمْ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ
ترجَمہ کنز الایمان:نہ یہ اِنہیں حلال نہ و ہ اُنہیں حلال ۔
شوہر کے مسلمان ہونے کے بعد قاضی عورت پر اسلام پیش کریگا اگر اسلام سے انکار کرے نِکاح جاتا رہے گا۔ اور جہاں قاضی نہ ہوں جیسے آج کل ہندوستان، یہاں عورت کوتین حیض آنے پرنِکاح ٹوٹ جائیگا ۔یہ حکم نِکاح ٹوٹنے کا ہے ۔ یعنی اگر تین حیض گزرنے کے بعد عورت بھی مسلمان ہو گئی اور اسی شوہر کے پاس رہنا چاہتی ہے تو جدیدنِکاح کی ضَرورت ہو گی کہ اب وہ پہلا نِکاح جاتا رہا۔ رہا عورت سے جِماع کرنا تو مرد کے اسلام لاتے ہی (اُس کافِرہ بیوی سے )حرام ہو گیا۔
( فتاوٰی امجدیہ ج۴ ص ۴۱۶)