دعوتِ اسلامی کی اس مبلِّغہ کے اندازِ گفتگو نے مجھے اپنا ایسا گِرویدہ کر لیا کہ میں روزانہ ان کی منتظر رہنے لگی،جب وہ تشریف لے آتیں تو میں اپنا زیادہ وَقت ان کے ساتھ ہی گزارنے کی کوشِش کرتی ۔ان کا پاکیزہ کردار دیکھ کر سوچا کرتی کہ اسلام اپنے ماننے والوں کوعِفّت وپارسائی کا کیسا پیار ادرس دیتا ہے !ان کی صحبت اور اِنفِرادی کوشِش کی بَرَکت سے میرے دل میں اسلام کی مَحَبَّت کی شمع روشن ہونے لگی ،بِالآخِرایک روز میں نے مسلمان ہونے کا عزمِ مُصَمَّم کر ہی لیا۔ دوسرے دن جوں ہی وہ مُبَلِّغہ تشریف لائیں میں نے وُفُورشوق میں بے قرار ہو کران سے کہا:آپ کے اعلیٰ کردار اورپاکیزہ گُفتار نے مجھے بَہُت مُتَأَثِّرکیا ہے۔اسلام کس قَدر پیارا دین ہے ،میں نے ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا ، میں اس کی روشن تعلیمات کا کُھلی آنکھوں سے مُشاہَدہ کر چکی ہوں،اس کے بعد جب میں نے مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے خوش ہو کر فوراً مجھے توبہ کروا کر کلمہ پڑھادیا :
لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ دیکھ کر وہاں موجود دیگر اسلامی بہنیں اشکبار ہو گئیں اور گلے لگ کر مجھے مسلمان ہونے کی مبارک باد دینے لگیں۔ میں نے دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو کر اسلامی احکامات پر عمل کی کوشِش شروع کر دی اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں داخِل ہو کرسرکارِ غوثِ اعظم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرمکی مُریدنی بن گئی۔اسلام قَبول کرنے کے بعد میں نے اپنے شوہر پر اِنفِرادی کوشِش شروع کر دی ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
دو ماہ بعد وہ بھی جُمادی الآخِرہ ۱۴۲۷ ھ میں سایہ اسلام میں آ گئے۔