(صَحیح مُسلِم ص ۳۸۳حدیث۲۵۵۶)
مذاق مسخری کی عادت پر خود پر پابندی لگا دیجئے ،خاموشی اور سنجیدَگی کی عادت بنایئے ۔جب غیبت کرنے کو جی چاہے تو اُس کے دُنیوی و اُخری نقصانات پرغور کیجئے، اِس کے عذابات جیسا کہ مُردار کا گوشت کھانا، تانبے کے ناخُنوں سے اپنا چِہرہ اور سینہ چِھیلنا، پہلوؤں سے کاٹ کاٹ کر گوشت کِھلایا جانا وغیرہ ذِہن میں دُوہرایئے، نیز غیبت کے سبب ہونے والی نیکیوں کی کمی ، گناہوں کی زیادَتی اور بُرے خاتمے کے خوف سے خود کو ٹھیک ٹھاک ڈرادیجئے۔غیبت کے اِجمالی(مختصر )علاج کی ان چند سُطور کو کافی مت سمجھئے،آگے آنے والا غیبت کاتفصیلی علاج بھی ضرور پڑھئے۔ ہاں اس سے شیطان آپ کو بَہُت روکے گا اور خوب سُستی دلائے گا مگر آپ اسے مکمَّل پڑھ کر اس مَردودکو نامُراد کیجئے۔ غیبت کی تباہ کاریوں اور اِس پر ملنے والے عذابوں کا وقتاً فوقتاً مُطالَعَہ کرتے رہے ورنہ توجُّہ ہٹ جانے کی صورت میں غیبت پر دوبارہ دلیر ہو جانے کا خطرہ رہے گا۔
عَفْو فرما خطائیں مری اے عَفُو شوق و توفیق ،نیکی کا دے مجھ کو تو
جاری دل کر کہ ہر دم رہے ذکرِ ھُو عادتِ بد بدل اور کر نیک خُو (سامانِ بخشش)
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ،
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد