صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غیبت کا اِجمالی (یعنی مختصر )علاج
غیبت کا اِجمالی یعنی مختصر علاج یہ ہے کہ اِس کے اسباب کا خاتِمہ کیا جائے ۔ مَثَلاً غصّہ بھی اِس کا ایک سبب ہے تو جب کسی پر غصّہ آ جائے اوراُس کی غیبت کرنے اور عیب کھولنے کا جذبہ پیدا ہو تو فوراً غور کیجئے کہ اگر میرے اِس عمل پر اللہ عَزَّوَجَلَّ غَضَب ناک ہو گیا اور اُس نے میرے عُیُوب کھول دیئے تو میں کیا کروں گا !نیز اپنے آپ کو یوں بھی ڈرایئے کہ اگر میں غصّے میں آ کر غیبت کروں گا تو گنہگار اور جہنَّم کا حقدار قرار پاؤں گا کہ یہ گناہ کے ذَرِیعے غصّہ ٹھنڈا کرنا ہوا اورفرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:''جہنّم میں ایک دروازہ ہے اُس سے وُہی داخِل ہوں گے جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتاہے۔''
(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۱ص۲۰۵ حدیث۷۸۴)
بغض و کینہ بھی''غیبت ''کاایک بَہُت بڑاسبب ہے لہٰذا اس کی تباہ کاریاں ذِہن میں لا کر ان کے علاج کی بھی ترکیب کیجئے ،اور خود کو اس وعید سے ڈرایئے جیسا کہ فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: ''شعبان کی پند ر ہویں شب میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندو ں کو رَحمت کی نظر سے دیکھتا اور سب کو بخش دیتا ہے لیکن مُشرِک اورکینہ پرور کونہیں بخشا جاتا ۔''
(الاحسان بترتیب صَحِیح ابنِ حِبّان ج ۷ ص ۴۷۰ حدیث ۵۲۳۶ )
حسدبھی''غیبت ''کا ایک سبب ہے اس کا بھی علاج کیجئے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوالدَّرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:جو موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرے اُس کے حَسَد اور خوشی میں کمی آجائے گی ۔
(مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج۸ ص۱۶۷ رقم ۴)
گھریلو ناچاقیاں ختم کیجئے کہ اس سے غیبت کا بَہُت بڑا دروازہ کھلتا ہے، گھر کے ناراض افراد مَثَلاً ماں باپ ، بھائی بہن نیز دیگررشتے داروں سے صُلح کر لیجئے اور آئندہ بھی ہرگزان سے نہ بگاڑیئے، وہ لاکھ بگاڑیں مگر آپ ان کے ساتھ حُسنِ سُلوک ہی کرتے رہے۔ ان دو فرامینِ