بولنے کی عادت (6)طنز کرنے کی خصلت (7)ہنسی مذاق کی لت (ایسا شخص دوسروں کو ہنسانے کیلئے لوگوں کی نقلیں اُتارکر بھی بسا اوقات غیبت میں مُبتَلا ء ہوجا تا ہے ) (8)گھریلو ناچاقِیاں (ان حالات میں غیبت سے بچنا قریب بہ ناممکن ہے،صُلح کر لینے ہی میں دونوں جہاں کی عافیت ہے)(9)رِشتے داروں یا دوستوں سے ناراضیاں (10)گِلہ شکوہ کرنے کی عادت (جہاں کسی کے بارے میں دوسرے سے شکوہ شروع کیا کہ شیطان نے بدگمانیوں، عیب دریوں، غیبتوں،تہمتوں اور چغلیوں کا ڈھیر لگوادیا!)(11)تکبّر(12)وَہمی طبیعت (13)بے جا تنقیدی ذِہن (تنقیدِ بے جا کا مریض کسی کی براہِ راست اصلاح کرنے کے بجائے عُمُوماًدوسروں کے آگے غیبتیں کرتا پھرتا ہے کہ وہ یوں کر رہا ہے فُلاں اُوں کر رہا ہے فُلاں کویوں نہیں بلکہ یوں کرنا چاہے تھا ) (14)غیبت کی ہلاکت سامانیوں اور اِس کے دینی و دُنیوی نقصانوں سے ناواقِفِیَّت(15)بے جا جذباتیَّت اور''بھڑاس''نکالے بِغیر سُکون نہ ملنا (16)خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کی کمی اور عذاب ِالہٰی عَزَّوَجَلَّ سے اپنے آپ کو ڈراتے رہنے کی عادت نہ ہونا وغیرہ ۔ بَہَرحال جو غیبت کی آفات سے خود کو بچانے اور قبر وجہنَّم کے عذابات سے نَجات پانے کا آرزو مند ہو اُسے بیان کردہ جُملہ اسباب اور اس کے علاوہ بھی غیبت پر اُبھارنے والی تمام اَشیاء کا علاج کرنا اور غیبت سے بچنے کے طریقے جاننا نہایت ضَروری ہے ۔