| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
بدمذہبی کی بُو
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پر مشتمل کتاب، ''ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت''(مکمَّل)صَفْحَہ302 پر ہے: حضرتِ عمرِفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نَمازِ مغرِب پڑھ کر مسجِد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آواز دی :کون ہے کہ مسافر کو کھانا دے؟ امیرُالْمُؤمِنِین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے خادم سے ارشاد فرمایا:اسے ہمراہ لے آؤ۔ وہ آیا(تو)اسے کھانا منگا کر دیا۔ مسافر نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک لفظ اس کی زَبان سے ایسا نکلا جس سے ''بدمذہبی کی بُو'' آتی تھی ، فوراً کھانا سامنے سے اُٹھوا لیا اور اسے نکال دیا۔
(کَنْزُ الْعُمّال ج۱۰ ص ۱۱۷رقم ۲۹۳۸۴)
فارِقِ حقّ و باطل امامُ الھُدٰی تیغِ مَسلُولِ شدّت پہ لاکھوں سلام
بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا کیسا؟
ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت''(مکمَّل)صَفْحَہ277سے عرض ، ارشاد کا اقتِباس مُلاحظہ فرمایئے اور اپنی آخِرت کی بہتری کی صورت بنایئے ۔
عرض :
اکثر لوگ بد مذہبوں کے پاس جان بوجھ کربیٹھتے ہیں ۔ ان کے لئے کیا حکم ہے؟
ارشاد :
(بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا)حرام ہے اور بد مذہب ہوجانے کا اندیشہ کامل اور دوستا نہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتل۔ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:
اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لَایُضِلُّوْنَکُمْ وَلَایُفْتِنُوْنَکُمْ
یعنی انھیں اپنے سے دور کر و اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں ۔
(مقدّمہ صَحیح مُسلِم حدیث۷ ص ۹)
اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذّاب (یعنی بَہُت بڑے جھوٹے )پر اعتماد کرتا ہے ،''
اِنَّھَا اَکْذَبُ شَیْءٍ اِذَا حَلَفَتْ فَکَیْفَ اِذَا وَعَدَتْ
(نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے )صحیح حدیث میں فرمایا :جب دجّال نکلے گا ، کچھ (افراد)اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مُستقیم(یعنی قائم)ہیں،ہمیں