| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: بدعقیدہ لوگوں کا ضَرَر (یعنی نقصان )فاسِق کے ضَرَر سے بَہُت زائد ہے، فاسِق سے جو ضَرَر(یعنی نقصان)پہنچے گا وہ اس سے بہت کم ہے جو بدعقیدہ لوگوں سے پہنچتا ہے۔ فاسِق سے اکثر دنیا کا ضَرَر(نقصان)ہوتا ہے اور بدمذہب سے تو دین و ایمان کی بربادی کا ضَرَر (نقصان)ہے اور بدمذہب اپنی بدمذہبی پھیلانے کے لیے نماز روزہ کی بظاہر خوب پابندی کرتے ہیں، تاکہ ان کا وقار لوگوں میں قائم ہو پھر جو گمراہی کی بات کریں گے ان کا پور ااثر ہوگا، لہٰذا ایسوں کی بدمذہبی کا اظہار فاسِق کے فسق کے اظہار سے زیادہ اہم ہے اس کے بیان کرنے میں ہر گز دَریغ نہ کریں۔
(بہارِ شریعت )
منحوس بدمذہبوں کی بات سننی ہی نہیں ہے
مذکورہ حکایت سے ان لوگوں کو بھی درس حاصِل کرنا چاہے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو کوئی بھی قراٰن وحدیث بیان کرے آنکھیں بند کر کے اُس سے سُن لینا چاہے اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں کے جلیلُ القَدر امام حضرت سیِّدُنا امام ابوبکر محمد ابنِ سِیرین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین جیسے عظیم عالمِ دین نے اُن بدعقیدہ آدمیوں سے قراٰن وحدیث کوکیوں نہیں سنا!بس یوں سمجھو کہ انہوں نے نہ سُن کر گویا ہم جیسوں کو سمجھایا ہے کہ میں بھی نہیں سنتا تم بھی مت سنو!حالانکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عربی دان اور جلیل القدر عالم و مُجتَہِدتھے ،اگر وہ بدعقیدہ لوگ تاویل کرتے تو پکڑے بھی جاتے مگر ان منحوس بدمذہبوں سے سننا ہی نہیں ہے کہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی ۔اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سن لیتے تو دوسروں کے لئے دلیل ہو جاتی اور وہ سُن کر گمراہ ہوتے۔ اور ہاں آپ نے ان کو جو چلے جانے کا حکم فرمایا وہ کوئی بداَخلاقی نہیں تھی بلکہ ایسا کرنا عین حُسنِ اَخلاق ہے۔ اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دشمنوں کی خاطِر تواضُع نہیں کی جاسکتی ۔
جو ہیں دشمن رسول کے اُن کو ہم نے دل سے نکال رکھا ہے