بد مذہبوں سے حدیث و آیت نہ سنی
حضرتِ علامہ امام ابوبکر محمد ابنِ سِیرین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین کی خدمت میں دو بدعقیدہ آدَمی حاضِر ہوئے اورکہنے لگے:اے ابوبکر !ہم آپ کو ایک حدیث سناتے ہیں ۔فرمایا :میں نہیں سنوں گا۔ دونوں نے کہا:اچّھا چلئے قراٰنِ کریم کی ایک آیت ہی سن لیجئے۔ فرمایا :نہیں سنوں گا ،تم دونوں میرے پاس سے چلے جاؤ ورنہ میں اُٹھ کر چلا جاتا ہوں۔ آخر وہ چلے گئے تو بعض لوگوں نے (حیرت سے )عرض کی :اے ابوبکر!آپ اگر ان سے حدیثِ پاک یا آیتِ قراٰنی سن لیتے تو اس میں آخِر کیا حرج تھا؟ فرمایا :مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قراٰن و حدیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے ( تو ہلاک ہوجاؤں اس لیے میں نے ان سے قراٰن وحدیث سننا گوارا نہ کیا )۔
(سُنَنِ دا رمی ج۱ ص۱۲۰ رقم۳۹۷، فتاوٰی رضویہ ج۱۵ص۱۰۶ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حکایت میں مشہور تابِعی بُزُرگ امامُ الْمُعَبِّرین حضرت سیِّدُنا امام ابوبکر محمد ابنِ سِیرینعلیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین نے دو شخصوں کے بارے میں یہ جو فرمایا ہے کہ ''مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قراٰن و حدیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں''یہ بظاہر بدگمانی و غیبت ہے مگر یہ جائز بدگمانی وغیبت ہے بلکہ ایسی غیبت باعثِ ثوابِ آخِرت ہوتی ہے کیوں کہ وہ دونوں بد عقیدہ تھے لہٰذا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُن کی بدعقیدَگی کا لوگوں پر اظہار فرما دیا۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 175تا176پر