Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
242 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)اُس شخص كی ناك خاك آلود ہو جس كے پاس میرا ذكر ہو اور وہ مجھ پردُرُودِپاك نہ پڑھے۔
کی طرف لے جائے گا جو محض(گناہ بھری) غیبت ہے لہٰذا اس کا بالکل ترک کر دینا(یعنی بطورِ افسوس کسی کی غیبت نہ کرنا)تقویٰ کے زیادہ قریب اور زیادہ احتیاط پر مبنی ہے ۔
 (تفسیر روحُ البیان ج۹ص۸۹)
(11)حدیث کے راویوں ، مُقدّمے کے گواہوں اورمُصَنِّفِین پر جرح (یعنی ان کے عُیُوب کو ظاہر)کرنا
 (رَدُّالْمُحتار ج۹ ص ۶۷۵)
(12)مُرتد اورکافِرِ حَربی کی بُرائی بیان کرنا (اب دنیا میں تمام کافِر حربی ہیں )۔یہ بیان کردہ تمام صورَتیں بظاہِر غیبت ہیں اور حقیقت میں گناہوں بھری غیبت نہیں اور ان عُیوب کا بیان کرنا جائز ہے بلکہ بعض صورَتوں میں واجِب ہے۔
صبح ہوتی ہے شام ہو تی ہے    عُمر  یوں ہی تمام  ہوتی ہے

غیبتیں چغلیاں ہے کرواتی      جب زباں بے لگام ہوتی ہے
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ!                اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کافر اور مرتد کی غیبت کے اَحکام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!''ذِمّی کافر''کی غیبت ناجائزاور ''حَربی کافر''اور مُرتد کی جائز ہے، آج کل دنیا کے تمام یہودی ،کرسچین اور ہر کافِر''حَربی''ہے۔ مگر پُرانے دَور میں جبکہ مسلمانوں کا غَلَبہ تھا اُس وَقت ''ذِمّی کافر'' بھی پائے جاتے تھے۔ان کو تکلیف دینا اور ان کی غیبت کرنا ناجائز تھا جیسا کہ شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:''جس نے کسی یہودی یا نصرانی کو تکلیف دِہ بات کہی اُس کا ٹھکانہ جہنَّم ہے۔''
 (الاحسان بترتیب صحیح ابن حِبّان حدیث۴۸۶۰ ج۷ ص۱۹۳)
ذِمّی کافِر اُس مخصوص کافِر کو کہتے ہیں جو اسلامی حکومت کو اپنے تحفُّظ کیلئے جِزیہ(TAX)ادا کرے۔ چُنانچِہ ''تفسیر نعیمی'' میں ہے:جِزیہ یعنی وہ شَرعی مَحصول (TAX)جو حکومت اہلِ کتاب (یہودو نصاریٰ )سے ان کے جان و مال
Flag Counter