Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
240 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
جو کھلّم کُھلّا بُرائی کرتا ہو اُس کی غیبت
(8)کُھلّم کُھلّالوگوں سے مال چھین لینے، علَی الاعلان شراب پینے، داڑھی مُنڈانے یا ایک مٹّھی سے گھٹانے وغیرہ وغیرہ عَلانیہ گناہ کرنے والے کہ جن کوان گناہوں کے مُعاملے میں لوگوں سے حیانہ رہی ہو اُن کی صِرف اُن باتوں کا تذکِرہ کرنا(9)ظالم حاکِم کے اُن مظالم کا بیان کرنا بھی جائز ہے جو کھلَّم کُھلّا کرتا ہو،ہاں ظالم بھی جوبُرا عمل چُھپ کر کرتا ہو اُس کابیان غیبت ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت ''حصّہ 16 صَفْحَہ177پر ہے:جو شخص علانیہ بُرا کام کرتا ہے اور اس کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ لوگ اسے کیا کہیں گے، اس کی اس بُری حرکت کا بیان کرنا غیبت نہیں، مگر اس کی دوسری باتیں جو ظاہر نہیں ہیں ان کو ذکر کرنا غیبت میں داخِل ہے۔ حدیث میں ہے کہ ــجس نے حیا کا حجاب اپنے چِہرے سے ہٹا دیا، اس کی غیبت نہیں۔
 (بہارِشریعت)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرتِ علامہ سیّد مُرتضٰی زَبیدی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں:یاد رہے!اس سے(یعنی علی الاعلان جُرم کرنے والے کے اُس جُرم کے تذکرے سے) صرف لوگوں کی خیر خواہی مقصود ہو ،ہاں جس شخص نے اپنا غصّہ(یا بھڑاس)نکالنے یا اپنے نفس کا انتِقام لینے کے لیے فاسِقِ مُعلِن کی مذموم صِفات کو بیان کیا وہ گناہ گار ہے۔
                              (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج ۹ ص ۳۳۲ )
(10) بطورِ افسو س کسی کی بُرائی بیان کرنا
کسی نے اپنے مسلمان بھائی کی برائی افسوس کے طور پر(بیان)کی کہ مجھے نہایت افسوس ہے کہ وہ ایسے کام کرتا ہے یہ غیبت نہیں ، کیونکہ جس کی بُرائی کی اگر اسے خبر بھی ہو گئی تو اس صورت میں وہ بُرا نہ مانے گا، بُرا اُس وَقت مانے گا جب اسے معلوم ہو کہ اس کہنے والے کا مقصود ہی بُرائی کرنا ہے، مگر یہ ضَرور ہے کہ اس چیز کا اظہار اس نے حسرت و افسوس ہی کی وجہ سے کیا ہو ورنہ یہ غیبت ہے بلکہ ایک قسم کانِفاق اور ریا اور اپنی مَدح سَرائی (یعنی اپنے منہ اپنی تعریف)ہے، کیونکہ اس نے مسلمان بھائی
Flag Counter