| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
چیز کے ساتھ کرو جو اس میں ہے تاکہ لوگ اس سے بچیں۔
(اَلسّنَنُ الکُبری ج۱۰ ص۳۵۴ حدیث ۲۰۹۱۴)
(3)مَثَلاً کاروباری، شراکت داری یا شادی وغیرہ کیلئے مشورہ مانگنے پر جس کے بارے میں مشورہ مانگا گیا ہے اُس کے اگر ایسے عُیُوب معلوم ہیں جس سے نقصان پہنچ سکتا ہے تو ضَرورتاً صرف وُہی عُیُوب بتانا (4)قاضی (یا پولیس )سے انصاف کے حُصُول کیلئے فریاد کرتے وَقت کہ فُلاں نے چوری کی ، ظلم کیا وغیرہ (5)جو اِصلاح کر سکتا ہو اُس سے صِرف اِصلاح کی نیّت سے شکایت کی جا سکتی ہے مَثَلاً مُرید کی پیر سے، بیٹے کی باپ سے،بیوی کی شوہرسے، رعایاکی بادشاہ سے،شاگرد کی استاذسے شکایت کی جا سکتی ہے(6)فتویٰ لینے کیلئے نام لیکر بُرائی بیان کر سکتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ مفتی سے بھی اشارۃً یعنی زید بکر میں دریافت کرے ۔
(بہارِشریعت حصّہ ۱۶ص ۱۷۷۔۱۷۸ مُلَخَّصاً)
(7)پہچان کیلئے ضَرورتاً گونگابہرا وغیرہ کہنا
کسی کے جِسمانی عَیب مَثَلاً اندھا ، موٹاوغیرہ صِرف پہچان کیلئے کہنا جب کہ وہ اس علامت سے معروف(یعنی پہچانا جاتا)ہواگر بِغیر عیب ظاہر کئے بھی پہچان ہو سکتی ہے تو بہتر یہ ہے کہ نام کے ساتھ عیب کا تذکِرہ نہ کرے ۔ مَثَلاً زید موٹا ہے مگر نام مع ولدیت بتانے یا کسی اور علامت سے ترکیب بن سکتی ہے تو اب موٹا کہنے سے بچے۔چُنانچِہ ''رِیاضُ الصَّالِحین''میں ہے:مَثَلاً کوئی شخص اَعرَج (لنگڑے)اَصَم(بہرے)، اَعمٰی(اندھے)، اَحوَل(بھینگے) کے لقب سے مشہور ہے تُو اس کی معرفت و شناخت (یعنی پہچان)کے لیے ان اَوصاف و علامات کے ساتھ ذکر کرنا جائز ہے مگرتَنقیص (یعنی خامی بیان کرنے)کے ارادے سے ان اَوصاف کے ساتھ تذکِرہ جائز نہیں ۔ اگر(خامی بھرے)لقب کے بِغیر پہچان ہو سکتی ہو توبہتر یہ ہے کہ لقب بیان نہ کرے۔
(رِیاضُ الصّالِحین لِلنَّوَوی ص ۴۰۴)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ178پر ہے: بعض مرتبہ محض پہچاننے کے لیے کسی کو اندھا یا کانا یا ٹھگنا یا لمبا کہا جاتا ہے، یہ غیبت میں داخِل نہیں۔