ڈاکٹروں اورعاملوں وغیرہ کیلئے
دوسروں کی موجودگی میں ڈاکٹروں،حکیموں، عاملوں ،سماجی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو بھی ضرورتاً اپنے راز بتانے پڑتے ہیں، اس سلسلے میں بھی کچھ مَدَنی پھول دے دیجئے۔
ہر مسلمان کو چاہئے کہ خود بھی گناہوں اور ان کے اسباب سے بچے اور اپنی مقدور بھر دوسروں کو بھی بچائے لہٰذا ان صاحبان کوبھی ایسی حکمتِ عملی اختیار کرنی ہو گی کہ ایک کا عیب دوسرا نہ سُن پائے۔ یہ حضرات بھی اگر مناسِب خیال فرمائیں تو اپنے یہاں مذکورہ بورڈ یا بنیر لگوالیں اور اُس میں لفظ'' بستے پر'' کی جگہ اپنی ضَرورت کے الفاظ مَثَلاً ''پیر صاحِب سے'' ''بابا جی سے'' ''ڈاکٹر صاحِب سے'' ''حکیم صاحِب سے''وغیرہ کی ترکیب فرما لیں۔
غیبتوں سے بچوں ، چغلیوں سےبچوں ہو نگاہِ کرم ، تاجدارِ حرم
بد کلامی نہ ہو، یاوہ گوئی نہ ہو بولوں میں کم سے کم، تاجدارِ حرم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(1)بد مذہب کی بد عقیدَگی کا بیان (2)جس کی بُرائی سے نقصان پہنچنے کا خَدشہ ہو تو دوسروں کواُس سے بچانے کیلئے بَقَدَرِ ضَرورت صِرف اُسی بُرائی کا تذکِرہ مَثَلاً جوتا جِردھوکے سے ملاوٹ والا مال بیچتا ہو اُس سے مسلمانوں کو بچانے کیلئے اُس کے اُ س ناقِص مال کی نشاندہی کرنا۔فرمانِ مصَطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:کیا فاجِر کے ذکر سے بچتے ہو اس کو لوگ کب پہچانیں گے!فاجِر کا ذکر اس