Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
237 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
بھی ہوتی ہیں ، ہر ایک کو الگ سے وَقت دینا ہمارے بس کا روگ نہیں کوئی حل بتا دیجئے۔
جواب:
روحانی علاج کے ذَرِیعے شَہَنشاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دُکھیاری امّت کی خدمت بے شک بَہُت بڑی سعادت ہے مگر اس مَدَنی کام اورہرہرعمل کو گناہوں سے پاک صاف رکھنا ضَروری ہے ۔ہرگز یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک مُستَحَب کام کیلئے  گناہوں بھرے حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام ہوتے رہیں۔ لوگوں تک آواز نہ پہنچے اس کیلئے کوئی حکمتِ عملی اختیار کرنا ضَروری ہے مَثَلاً بستے کے سامنے اِتنے فاصلے پر کوئی رُکاوٹ رکھ دی جائے جہاں تک آواز نہ جاسکے ،جس کی باری ہواُسی کو قریب بُلایا جائے ، پریشانیاں سننے کیلئے صِرف ایک فرد ہو جوکہ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کاحامِل اور مسلمانوں کے رازوں کا امین ہو، بِلااجازتِ شرعی اُس کا کوئی مُعاوِن ہرگز قریب نہ رہے۔ نیزدرجِ ذیل مضمون کا بینر یا بورڈ بنوا کر حتَّی الامکان بستے کے عین اوپر کی جانب اس طرح لگا دیا جائے کہ قِطار میں موجود ہر فرد بآسانی پڑھ سکے نیز وقتاً فوقتاً اُس مضمون کا اعلان بھی کیا جاتا رہے۔ مضمون یہ ہے:
کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا
لوگوں کو بغرضِ علاج مجبوراً راز بھی بتانے پڑتے ہیں لہٰذا بستے پر ہونے والی گفتگو کوسننے سے دوسرا آدمی اپنے آپ کو بچائے،سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جو شخص کسی قوم کی باتیں کان لگا کر سنے حالانکہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں یا اس بات کو چھپانا چاہتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔
    (صَحیح بُخاری ج۴ ص ۴۲۳حدیث ۷۰۴۲)
    مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: یعنی جو دوسروں کی خُفیہ بات چُھپ کر سنے اُس کے کان میں قِیامت کے دن سیسہ گرم کرکے اُنڈیلا جائے گا۔ حدیث بالکل
Flag Counter