Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
236 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مغفرت ہے۔
عادتوں میں گرفتار ہیں ان کی اِصلاح کیلئے دعاکردیجئے''یونہی بہن یا بیٹی بھاگ گئی یا کسی لڑکے کے چکّر میں پڑ گئی تو ان الفاظ میں دُعا کی درخواست کی جاسکتی ہے: ''میری ایک رشتے دارکسی ناقابلِ بیان بُرائی میں پڑگئی ہے اُس کیلئے دعا کر دیجئے۔''ان الفاظ سے دُعا کروانے میں فائدہ یہ ہے کہ چونکہ فرد،مُعَیَّن(یعنی PARTICULAR)نہ ہوا لہٰذا غیبت کا امکان اَصلا(یعنی بالکل ہی) ختم ہوگیا ۔ دوسری بات یہ کہ مخصوص بُرائی اور خلافِ حیا الفاظ کے بیان سے بھی بچت ہوگئی۔ ہاں اگر کسی نے دعاکروانے کی نیّت سے اپنی یا کسی مخصوص فرد کی خامی یا عیب کسی کے آگے بیان کر دیا تو یہ گناہ بھری غیبت نہیں، گناہ بھری غیبت اُسی صورت میں ہو گی جبکہ کسی مُعَیَّن و معلوم فرد کی خامی محض اس کی بُرائی کرنے کی نیّت سے بیان کی جائے۔
طبیب کو عُیُوب بیان کرنے کا طریقہ
طبیب یا عامِل کو بہ نیّتِ حُصُولِ علاج عُیوب بتانے میں حَرَج نہیں۔البتّہ فردِ مُعَیَّن کا تذکِرہ کئے بِغیر کام چل جاتا ہو تو چلا لیجئے مَثَلاً ''میرا بیٹا شراب پیتا ہے''کہنے کے بجائے یوں کہہ دیجئے کہ ''میرا ایک رشتے دار شراب پیتا ہے'' اگر نام وغیرہ بتانا ضَروری ہو یا خود اپنی ہی خامیاں بیان کئے بِغیر چارہ نہ ہو تو یہ احتیاط ضَروری ہے کہ اُس طبیب یا عامل ہی کو بتایا جائے بِلا حاجت کوئی بھی دوسرا فرد وہ باتیں سننے یا جاننے نہ پائے۔بڑے ڈاکٹر عُمُوماً اپنے کمرے میں الگ بلا کر مریض سے احوال سنتے ہیں مگر نہ جانے کیوں ان کی اکثریت اُس موقع پر تعاون کیلئے بے پردہ عورت ساتھ رکھنے کا گناہ کرتی ہے! چند بار مجھے جب ایسا اِتِّفاق ہوا ہے تو رازداری کی گفتگو نہ ہونے کے باوجُود نگاہوں کی حفاظت کی خاطِر درخواست کر کے عورت کو باہر کمرے سے بھجوا دیاہے۔ ہر ایک کو حکمِ شریعت پر عمل کرنا چاہئے۔
روحانی علاج کے بستے پر رازداری کا طریقہ
سُوال:
دعوتِ اسلامی کی''مجلس ''کی طرف سے ملک و بیرونِ مُلک روحانی علاج کے بے شمار بستے لگائے جاتے ہیں ، دکھیارے لوگ قِطار لگا کر ، اپنے مسائل بتا کر فی سبیل اللہ علاج حاصِل کرتے ہیں ، ان میں یقینا راز کی باتیں
Flag Counter