| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
کی نظروں میں ذلیل وخوار (DEGRADE)ہو حتّٰی کہ مسلمان کی عزّت بچانے کی نیّت سے بعض صورَت میں جھوٹ بولنے کی بھی اِجازت ہے کیونکہ مسلمان کی جان ، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی شریعت میں نہایت ہی اہمیت ہے۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 161پر ہے :''کسی نے چھپ کر بے حیائی کا کام کیا ہے، اس سے دریافت کیا گیا کہ تو نے یہ کام کیا؟ وہ انکار کرسکتا ہے کیونکہ ایسے کام کو لوگوں کے سامنے ظاہر کردینا یہ دوسرا گناہ ہوگا۔ اسی طرح اگر اپنے مسلم بھائی کے بھید پرمُطَّلع ہو تو اس کے بیان کرنے سے بھی انکارکرسکتا ہے۔ ''
(رَدُّالْمُحتارج۹ ص۷۰۵)
شرف حج کا دیدے چلے قافِلہ پھر مِرا کاش! سوئے حرم یاالٰہی دکھا دے مدینے کی گلیاں دکھادے دکھا دے نبی کا حرم یاالٰہی
خود کو ذِلّت پر پیش کرنا جائز نہیں
مسلمان کی عزَّت کی بَہُت اَھَمِّیَّت ہے ۔ خود اپنے ہاتھوں اپنی عزَّت خراب کرنے کی بھی شرعاً مُمانعت ہے ، لہٰذا ایسے مُلکی قوانین پرعمل کرنا شرعاً ضَروری ہے جو کہ قرآن وسنّت سے نہ ٹکراتے ہوں اور ان پر عمل نہ کرنے میں ذلّت ومعصیَت کا خطرہ ہو ۔مَثَلاً ڈرائیونگ لائسنس کے بِغیر اسکوٹر ، کا ر وغیرہ چلانے کی اجازت نہیں کیوں کہ چلائی اور پکڑا گیا تو بے عزّتی کے ساتھ ساتھ جھوٹ ، رشوت اور وعدہ خِلافی وغیرہ گناہوں میں پڑنے کا قوی امکان موجود ہے لہٰذا کئی گناہوں اور جہنَّم میں لے جانے والے کاموں سے بچنے کے لئے ڈرائیونگ لائسنس ہی بنوا لیا جائے اور گاڑی چلاتے وقت لازماً اپنے ساتھ رکھا جائے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 21 صَفْحَہ183 پر فرماتے ہیں:محض بلاوجہِ شرعی بلکہ بر خلافِ وجہِ شرعی ایک گناہ پر اصرار کیلئے اپنے نفس کو سزا و ذلّت پر پیش کیا اور یہ بھی بحکمِ حدیث حرام ہے۔ جلد 29صَفْحَہ 93 ، 94 پر فرماتے ہیں:حدیث میں ہے:جو شخص بِغیر کسی مجبوری کے