Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
232 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
پوری قوم کی غیبت کا مسئلہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 173پر ہے:کسی بستی یا شہر والوں کی بُرائی کی،مَثَلاً یہ کہا کہ وہاں کے لوگ ایسے ہیں، یہ غیبت نہیں کیونکہ ایسے کلام کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہاں کے سب ہی لوگ ایسے ہیں بلکہ بعض لوگ مُراد ہوتے ہیں اور جن بعض کو کہا گیا وہ معلوم(یعنی PARTICULAR)نہیں، غیبت اِس صورت میں ہوتی ہے جب مُعَیَّن و معلوم (یعنی جو پہچانے جا سکیں ایسے)ا شخاص کی بُرائی ذکر کی جائے اور اگراس کا مقصود وہاں کے تمام لوگوں کی برائی کرنا ہے تو یہ غیبت ہے۔
  (دُرِّمُختار ج۹ ص ۶۷۴)
لنگڑے کی نقّالی
کسی لنگڑے کی نَقّالی میں لنگڑا کرچلنا نیز کسی مخصوص مسلمان کی کسی بھی خامی کی نَقْل اتارنا غیبت ہے بلکہ یہ زَبان سے غیبت کرنے سے بھی زیادہ بُرا ہے۔کیونکہ نَقل کرنے میں پوری تصویر کَشی اور بات کو سمجھانا پایا جاتا ہے جبکہ کہنے میں وہ بات نہیں ہوتی۔
نام لئے بِغیر غیبت کرنا
نام لئے بِغیر غیبت کرنا گناہ نہیں ، ہاں اگر نام تو نہ لیا مگر جس کو کہہ رہا ہے وہ سمجھ رہا ہے کہ کس کے بارے میں بات ہو رہی ہے تواب غیبت ہے۔
منہ پر بھی کہہ سکتا ہوں!
غیبت کرنے والے کا یہ سمجھنا یا کہنا کہ میں اس کے مُنہ پر بھی کہہ سکتا ہوں ، اِس کو غیبت کے گناہ سے نہیں بچا سکتا کیوں کہ غیبت کے حرام ہونے کی اصل وجہ اِیذاء ِ مسلم ہے اورمُنہ پر کہنے سے اُس کا دل زیادہ دُکھے گا تو یہ اور بھی بڑا گناہ ہوا۔جس کی بُرائی کی گئی وہ ہنسنے لگا اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ اپنی برائی سن کر جھوم اُٹھا ہے ، فِطرۃً عام آدمی اپنی تعری ف سن کر ہی خوش ہوتا ہے اپنی مَذَمَّت سن کر کوئی خوش نہیں ہوتا لہٰذا اپنی مَذَمَّت سُن کر ہنسنایہ'' کِھسیانی ہنسی''ہوتی ہے کہ آدمی مُرُوّت میں یااپنی جِھینپ مٹانے کیلئے ایسے موقع پر ہنستا ہے حالانکہ اندرونی طور پر اُس کا دل جل رہا ہوتا ہے ۔
Flag Counter