(حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء ج ۷ ص ۳۳۵ رقم ۱۰۷۵۰)
جب نیک بندوں کے تذکروں پر رحمتوں کا نُزُول ہوتا ہے تو جہاں اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکرِ خیر ہو گا وہاں رحمتیں کیوں نازِل نہ ہو ں گی اور جہاں چھما چھم رحمتیں برس رہی ہوں وہاں دعائیں کیوں قبول نہ ہوں گی۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہَریرہ اور حضرتِ سیِّدُنا ابوسَعِیْدرضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم دونوں محبوبِ ربِّ ذوالجلال،صاحبِ جُودونَوال، شَہَنشاہِ خوش خِصال،سلطانِ شیریں مَقال، پیکرِحسن وجمال عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ ِ بیکس پناہ میں حاضِرتھے کہ رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو قوم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے فِرِشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ نازِل ہوتاہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فِرِشتوں کے سامنے ان کاذِکر فرماتا ہے ۔
(صَحیح مُسلِم ص۱۴۴۸ حدیث۲۷۰۰)
مراٰۃ جلد 3 صَفْحَہ305 پرہے : سیکنہ سے مرادیا تو خاص ملائکہ ہیں یا دِل کا نوریا دلی چین وسکون ہے۔
''اللہ ھُو اور حق ھُو''کی ضَربیں لگانا بے شک ذکر ہے ۔ تاہم تِلاوتِ قراٰن،حمدو ثنا، مُناجات و دعا ،درودو سلام، نعت و منقبت، خطبہ ،درس،سنّتوں بھرا بیان وغیرہ بھی ''ذِکراللہ''میں شامل ہیں۔ یقینا دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتِماعات بھی ذِکر کے حلقے ہیں۔ ؎
سارے عالم کو ہے تیری ہی جُستجو جِنّ و اِنس و مَلک کو تری آرزو
یاد میں تیری ہر ایک ہے سُو بَسُو بَن میں وَحشی لگاتے ہیں ضَرباتِ ھو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ،
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد