اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِی الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اُمّید ہے مسئلہ سمجھ میں آ گیا ہو گا ،ایسے مواقِع پر صَبْر کرنا چاہے ورنہ بدگمانیوں ،غیبتوں اور تہمتوں وغیرہ گناہوں سے بچنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ اب اگر کسی نے اِس طرح کی خطا کی ہے کہ بِغیرثُبوتِ شرعی جادو کا الزام لگا بیٹھا ہے تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ ِ بیکس پناہ میں گڑ گڑا کر توبہ کرے اور توبہ کے تقاضے بھی پورے کرے نیز جس پر الزام لگایا مَثَلاً بھابھی یا بَہو وغیرہ تواُن سے مُعاف بھی کروائے ۔رسمی طور پر صرف SORRYکہدینا کافی نہیں بلکہ جس دَھڑَلّے (یعنی بے باکی اور دھوم دھڑکّے )سے اُس کی بدنامی اور دل آزاری کی ہے اُسی کی مُناسَبَت سے خوب عاجِزی کر کے ،گڑ گڑا کر اور ہاتھ جوڑ کر اُس سے اِس قَدَر مُعافی مانگے کہ اُس کا دل مطمئن ہو جائے اور وہ مُعاف کر دے نیز جن جن کو یہ بات بتائی ہو اُن کے سامنے بھی کہنا پڑے گا کہ میں نے جُھوٹا الزام لگایا تھا ۔ واقِعی یہاں نَفس مُعافی مانگنے سے انکار ہی کریگا۔ اب بندے پر ہے کہ مُعافی مانگ کر دُنیوی طور پر اپنے نفس کی معمولی سی ذلّت اختیار کرے یاآخِرت کی درد ناک رُسوائی اور ہولناک سزا۔ دیکھئے ! شیطان طرح طرح کے حیلے بہانے سُجھائے گا، وَسوَسے دلائے گا کہ مَثَلاً یوں تو یہ سر چڑھ جائے گی، اِس کا دل کُھل جائے گا، ہم پر قبضہ جما لیگی ، ہماری بدنامی ہو جائیگی وغیرہ۔ آپ ان شیطانی خیالوں کی طرف نہ جایئے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے حکمِ شریعت پر عمل کیجئے
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
اِس کی بَرَکت خود ہی دیکھ لیں گے۔ یہاں تک کہ خدانخواستہ وہ واقِعی