Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
228 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
کردیا ہو ۔ لہٰذا اِس مسلمان پر (صرف منہ کی بدبو کے سبب)بد گُمانی نہ کی جائے (یعنی اِس کو شرابی قرار نہ دیا جائے)
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۸۶)
شَرعی ثُبُوت کسے کہتے ہیں
شرعی ثُبُوت کی یہاں صورت یہ ہے کہ یا تو جِس پر الزام ہے وہ خود بہ ہوش و حواس اقرار کرے کہ میں نے جادو کروایا ہے، اگر وہ انکار کرے تو دو مر د مسلمان یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورَتیں گواہی دیں کہ ہم نے اس کو جادو کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔اگر مذکورہ شرعی گواہ نہیں لاسکتے تو جس پر الزام ہے اگر وہ قَسَم کھالے کہ میں نے جادو نہیں کروایا تو اُ س کو سچّا ماننا ضَروری ہے ۔
تُو نے چوری کی
دیکھئے!شیطان کے اُکسانے پر بہو وغیرہ پر جادو کا الزام لگانے اورپوچھ گچھ کے دوران اس کے انکار پر ہر گز یہ بات زَبان پر نہ لایئے کہ یہ پھنس گئی تو اب اِس نے انکار کرنا ہی ہے اور آدمی عزّت بچانے کیلئے تو جھوٹی قسم بھی کھا لیتا ہے اِس لئے یہ بھی جھوٹی قسم کھا رہی ہے ۔خدا را ایک مسلمان کی عزّت کی اَھمِّیَّت کو سمجھنے کی کوشِش کیجئے۔ آپ کی عبرت کیلئے ایک ایمان افروز حدیث شریف عرض کرتا ہوں: چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عالی شان ہے:حضرتِ عیسیٰ ابنِ مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو اُس سے فرمایا:''تو نے چوری کی،''وہ بولا:''ہرگز نہیں اُس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ''تو حضرتِ عیسیٰ نے فرمایا:میں اللہ پر ایمان پر لایا اور میں نے اپنے کو آپ جھٹلایا ۔
(صَحیح مُسلِم ص۱۲۸۸ حدیث۲۳۶۸)
۔۔۔۔۔کہ میری آنکھوں نے دیکھنے میں غلطی کی
اللہُ اکبر !دیکھا آپ نے! حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
نے قسم کھا لینے والے کے ساتھ کتنا عظیم برتاؤ کیا ۔ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اُس قسم کھانے والے کو چھوڑدینے
Flag Counter