(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۲۲۰)
بَہَرحال ''بابا''اگر چِہ پیسے نہ مانگتا ہو تب بھی لوگ چُونکہ حقیقت سے ناواقِف ہوتے ہیں اِ س لئے عُمُوماً اَیسوں کے زیادہ عقیدت مند ہو جاتے ہیں اور پھر دعوتوں اور نذرانوں کی ترکیب کے ساتھ ساتھ شُہرت وعزَّت بھی حاصل ہوتی ہے ۔حُبِّ جاہ یعنی عزَّت وشہرت کی مَحَبَّت کا مَرَض جن کو لگ جاتا ہے وہ لوگ مشہوری کیلئے کروڑوں روپے اپنے پلّے سے خرچ کرنے سے بھی نہیں چُوکتے!عام انتخابات کے مَواقِع پر جَمہوری ممالِک میں اس کے نظّارے عام ہوتے ہیں ۔ یقینا شریعت کے کسی بھی مُعامَلے میں قَطْعاًجَھول نہیں ۔یاد رکھئے!اِستخارات ، مُوَکَّلات اور جِنّات کے ذَرِیعے نہیں بلکہ قرآن وسنّت کے اَحکامات کے تَوَسُّط سے اسلامی عدالتوں کے مُعامَلات طے کئے جاتے ہیں۔
اگر تکیے کے نیچے سے تعویذ نکل آئے تو؟
اگر بھابھی یا بہو کی جیب یا اُس کے تکیے کے نیچے سے تعویذ برآمد ہوا ہو تو کیا یہ بھی شَرعی ثبوت نہیں؟
یہ بھی شرعی دلیل نہیں۔ جو تعویذ برآمد ہوا اُسے ''جادو''قرار دینے کیلئے بھی تو کوئی معقول دلیل ہونی چاہے !اپنے علاج یا کسی نِجی مقصد کیلئے بھی تو وہ تعویذ استعمال کر سکتی ہیں ۔ باِلفرض وہ جادو ہی کا تعویذ ثابت ہو جائے تب بھی اس کا کیا ثُبُوت ہے کہ آپ کو نقصان پہنچانے ہی کیلئے وہ لائی تھیں۔ یہ شیطانی حرکت بھی ہو سکتی ہے کہ کوئی شریر جِنّ گھر میں فَساد کروانے کیلئے تکیے کے نیچے یا جیب میں تعویذ ڈالدے !
مُنہ کی بدبو کے باوُجُود شرابی نہ کہا جائے
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کے فرمان کا خُلاصہ ہے:کسی شخص کے منہ سے شراب کی بُو آتی ہو اِس بِنا پر اس پر حَد لگانی جائز نہیں کیوں کہ ہو سکتا ہے اِس نے شراب سے کُلّی کی ہو،خودنہ پی ہو کسی نے زبردستی پینے پر مجبور