میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!زَبان اگرچِہ بظاہر گو شت کی ایک چھوٹی سی بَوٹی ہے مگر یہ خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ کی عظیم الشان نعمت ہے۔اِس نعمت کی قد ر تو شاید گونگا ہی جان سکتا ہے۔ زَبان کا دُرُست استِعمال جنَّت میں داخِل اور غَلَط استِعمال جہنَّم سے واصِل کر سکتاہے۔ اس زَبان سے تِلاوتِ قراٰن کرنے والا اور دُرُود و سلام پڑھنے والا ربُّ العزّت کی عنایت سے جنّت میں جاتا ہے۔اِس زَبان سے کسی مسلمان کو گالی نکالنے والا نیز غیبت ، چغلی وتہمت کا مرتکِب عذابِ نار کا حقدار قرار پاتا ہے۔ اگر کوئی بدتر ین کا فربھی دل کی تصدیق کے ساتھ زَبان سے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسولُ اللہ
صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھ لے تو کفر و شرک کی ساری گندَگی سے پاک ہوجاتا ہے اس کی زَبان سے نکلا ہوا یہ کَلِمہ طیِّبہ اس کے گزَشتہ تمام گناہوں کے مَیل کُچیل کو دھوڈالتا ہے۔زَبان سے اداکئے ہوئے اس کلمہ پاک کے با عِث وہ گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوجاتا ہے جیسا کہ اُس روز تھا جس رو ز اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ یہ عظیم مَدَنی اِنقِلاب دل کی تائید کے ساتھ زَبان سے ادا کئے ہوئے کلمے شریف کی بدولت آیا ۔
ہر بات پر سال بھر کی عبادت کاثواب
اے کاش !ہم بھی اپنی زَبان کا صحیح استِعمال کر نا سیکھ لیں۔ غیبتوں،چغلیوں اور تہمتوں بھری باتوں سے پیچھا چھڑا لیں،بے شک اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مرضی کے مطابق اگر زَبان کو چلایا جائے تو جنَّت میں گھر تیّار ہوجائیگا۔ اس زَبان سے ہم تلاوتِ قرآن پاک کریں ، ذِکرُ اللہ عَزَّوَجَلَّ کریں، دُرُود وسلام کا وِرد کریں، خوب خوب نیکی کی دعوت دیں تو
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمارے وارے ہی نیارے ہوجائیں گے۔ مُکا شَفَۃُ الْقُلُوب میں ہے :حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
نے بار گاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی:اے ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ !جواپنے