حضرتِ سیِّدُنا حاتِم اَصَم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرم فرماتے ہیں:جب کسی مجلس میں یہ تین باتیں ہوں تو اُن لوگوں سے رَحمت پلٹ جاتی ہے:(۱)دنیا کا ذِکر(۲)زیادہ ہنسنا اور(۳) لوگوں کی غیبت کرنا۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۴)
حضرتِ سیِّدُنا قَتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:ہمیں بتایا گیا ہے کہ عذابِ قبر کو تین حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے:ایک تِہائی عذاب غیبت سے، ایک تہائی چُغلی سے، اور ایک تہائی پیشاب (کے چھینٹوں سے خود کو نہ بچانے)سے ہوتاہے۔
(ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۹۲ رقم۵۲)
کتّوں کی شَکل میں اُٹھیں گے
سرکارِ دو عالم،نُورِ مجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: غیبت کرنے والوں ، چغل خور وں اورپاکباز لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کواللہ عَزَّوَجَلَّ(قیامت کے دن )کتّوں کی شکل میں اٹھائے گا۔
(التّوبیخ والتّنبیہ لابی الشیخ الاصبہانی ص۹۷ رقم۲۲۰،اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۳ص۳۲۵ حدیث ۱۰)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں:خیال رہے کہ تمام انسان قبروں سے بشکل انسانی اٹھیں گے پھر محشر میں پہنچ کر بعض کی صورتیں مسخ ہو جائیں گی ۔(یعنی بگڑ جائیں گی مَثَلاً مختلف جانوروں جیسی ہو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1)یعنی امداد