حضرتِ سیِّدُنا عبد العزیز درینی علیہ رَحمَۃُ اللہ القوی کو جب معلوم ہوتا کہ کسی شخص نے ان کی غیبت کی ہے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فَہمائش (یعنی سمجھانے )کیلئے اُس کے گھر تشریف لے جاتے اور فرماتے :اے بھائی!آپ کوکیا ہوگیا کہ آپ نے عبدُالعزیز کے گناہ اُٹھا لیے!
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۲)
''گناہ اٹھا لئے ''کی وضاحت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حکایت سے پتا چلا کہ ہمارے اَسلاف اپنی غیبت کا سُن کر دھوآں پھوآں ہو کر آستینیں چڑھا کر غیبت کرنے والے پر چڑھ دوڑنے کے بجائے ، اگرجانا پڑتا تو اس کے گھر جا کر بھی اس کو نیکی کی دعوت پہنچاتے اور اس کے دل کو چوٹ لگانے والے کلمات ارشاد فرماتے۔ اس حِکایت میں ''گناہ اُٹھا لئے''جو کہا گیا ہے اِس سے مُراد یہ ہے کہ اگربِغیر توبہ اور مُغْتاب یعنی جس کی غیبت کی اُس سے بے مُعاف کروائے مرا تو جس کی غیبت کی ہے اُس کو اپنی نیکیاں دینی پڑیں گی، اگر نیکیاں نہ ہوئیں یا کم پڑ گئیں تو اُس کے گناہ اپنے سر اُٹھانے پڑ یں گے! آہ! غیبت کا مُعامَلہ بے حد نازُک ہے ،توبہ