(صَحیح بُخاری ج ۴ص ۲۸۹ حدیث ۶۶۵۲ )
حضرتِ سیِّدُنا ثابِت بِن ضَحَّاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ راحتِ قلبِ ناشاد،محبوبِ ربُّ الْعِبادعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد عبرت بنیاد ہے: جس نے لوہے کے ہتھیار سے خودکُشی کی تو اسے جہنَّم کی آگ میں اُسی ہتھیار سے عذاب دیا جائیگا ۔
(صَحیح بُخاری ج۱ص ۴۵۹حدیث ۱۳۶۳)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ،سرکارِ دو عالَم ،نورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدَم ، رسُولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جس نے اپنا گلا گھونٹا تو وہ جہنَّم کی آگ میں اپنا گلا گُھونٹتا رہے گا اور جس نے خود کونَیزہ مارا وہ جہنّم کی آگ میں خود کو نَیزہ مارتا رہے گا۔
(صَحیح بُخاری حدیث ۱۳۶۵ج۱ص۴۶۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خود کُشی کا عِلاج نامی بیان کی کیسٹ مکتبۃُ الْمدینہ سے حاصِل کیجئے اور سب گھر والوں کو سنائیے اور خُصوصاً پریشان حالوں کو سننے کیلئے پیش کیجئے ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
اِسی بیان کو حسبِ ضَرورت ترمیم کے ساتھ بنام:خود کُشی کا علاج رسالے کی صورت میں بھی شائع کیا گیا ہے ۔ اپنے عزیزوں کے ایصالِ ثواب کیلئیدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ الْمدینہ سے زِیادہ سے زِیادہ خرید کرغم کے ماروں ،دُکھیاروں اور بیماروں بلکہ عام مسلمانوں میں تقسیم کیجئے ۔ اگر پڑھ کر کوئی ایک بھی مسلمان خود کُشی کے ارادے سے باز آگیا تو
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ