سنوارنے کیلئے مَدَنی ان عامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمّے دار کو جمع کروایئے۔ سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضِری دیجئے نہ جانے کب دل چوٹ کھا جائے اور دونوں جہاں میں بھلائیاں عنایت ہو جائیں۔ آپ کی ترغیب کیلئے ایک مَدَنی بہار گوش گزار کرتا ہوں: ۱۴۲۵ ھ میں ہونے والے بَینَ الْا قوامی تین روزہ سنّتوں بھرے اجتماع (صحرائے مد ینہ ، مدینۃ الاولیا، ملتان شریف )کے چند رو ز بعد(سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ )سے ملنے ایک صاحِب پنجاب سے بابُ المدینہ کراچی آئے ،ان کے بیان کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے ، ''میں A.C.کوچ کا ڈرائیور ہوں، پر یشا نیو ں نے تباہ حال کردیا تھا ، شیطان مجھے باؤلا بناکر میرایہ ذِہن بنا چکا تھا کہ دنیا وا لے مطلبی اور بے وفا ہیں مجھے خود کُشی کرلینی ہے مگرتنہا نہیں اوروں کو بھی ساتھ لیکر مرناہے ۔ لہٰذامیں نے یہ طے کیاہو اتھا کہ کھچا کھچ بھری ہوئی کوچ کو پوری رفتار کے ساتھ گہری کھائی میں گراکر سب سُواریوں سمیت اپنے آپ کو ختْم کردوں گا ۔ایسے میں سُواریاں لیکر اجتماع (صحرائے مدینہ ،ملتان شریف)میں انے کی سعادت مل گئی ۔گویا میرے ہی لئے خود کُشی کا عِلاج نامی بیان ہوا ، سُن کر میں خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے لرز اُٹھا ،میں نے اچھّی طرح سمجھ لیا کہ خود کُشی سے جان چھوٹتی نہیں مزید پھنس جاتی ہے ۔میں نے سچّے دل سے توبہ کی،بیان کرنے والے کا نام و پتا لوگوں سے لیکر اب آپ کے پاس دعائیں لینے آیا ہوں ۔ چُنانچِہ اُس نے دعاکروائی اور نَماز کی پابندی،ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں حاضِری، مَدَنی قافِلوں میں سفر وغیرہ کی اچھّی اچھّی نِیَّتِیں کرکے روتا ہوا پلٹ گیا ۔