| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
ہوں تو وہاں سے اُٹھ جایئے ، ممکن ہو تو بات کا رُخ بد ل دیجئے اگر ہٹنا یا بات بدلنا اور کسی طرح سے غیبت سننے سے بچنا ممکن نہ ہو تو دل میں بُرا جانتے ہوئے حتَّی المقدور بے توجُّہی برتئے ۔ اگر ''ہاں''میں سر ہلا ئیں گے یا دلچسپی اور تعجب کا اظہار کریں گے ، تائید میں ''اچھا''جی،اوہو''وغیرہ آوازیں نکالیں گے تو گنہگار ہوں گے۔
عالم کو ٹوکنے کے متعلّق فرمانِ اعلیٰ حضرت
میرے آقا اعلٰیحضرت،اِمامِ اَہلسنّت، ولئ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظیم المَرْتَبت،پروانہ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِئ سنّت ، ماحِئ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت،باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 23 صَفْحَہ 708 پر لکھتے ہیں:علماء پرعوام کو (حقِّ)اعتراض نہیں پہنچتا اور جو مشہوربمعرفت ہو اُس کا مُعامَلہ زیادہ نازُک ہے ہرعامی مسلمان کے لئے حکم ہے کہ اُس کے(یعنی اُس عام مسلمان کے بھی)ہرقول وفعل کے لئے ستّر(70)مَحملِ حَسَن(یعنی اچھے اِحتمالات اور جائز تاویلات)تلاش کرو، (ان عوام پر بھی بدگمانی مت کرو)نہ کہ عُلماء ومشائخ جن پراعتِراض کا عوام کو کوئی حق (ہی حاصِل)نہیں!یہاں تک کہ کُتُبِ دِینیہ میں تَصریح (یعنی صاف لکھا )ہے اگرصَراحَۃً نَماز کاوَقت جارہاہے اور عالِم نہیں اُٹھتا توجاہل کایہ کہناگُستاخی ہے کہ''نَماز کوچلئے''، وہ (یعنی عالم)اِس (یعنی غیرِ عالم)کے لئے ہادِی (یعنی رہنما)بنایاگیا ہے نہ کہ یہ(جاہل)اُس(عالم)کے لئے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
(فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۷۰۸)
سنوں نہ فحش کلامی نہ غیبت و چغلی تری پسند کی باتیں فقط سنا یا رب کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی کر دے شُعُور وفکر کو پاکیزگی عطا یا رب
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد