Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
215 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
غیبت کرنے والے کو اشارے سے نہیں زبان سے روکئے
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کے فرمانِ والا شان کا خُلاصہ ہے:جہاں غیبت ہو رہی ہو اور یہ(مُرُوَّت میں نہیں بلکہ)ڈر کے سبب زَبان سے روک نہیں سکتا تو دل میں بُرا جانے تو اب اِسے گناہ نہیں ہوگا، اگر وہاں سے اُٹھ کر جاسکتا ہے یا گفتگو کا رُخ بدل سکتا ہے مگر ایسا نہیں کرتا تو گنہگارہے، اگر زبان سے کہہ بھی دیتا ہے کہ''خاموش ہو جاؤ''مگر دل سے سننا چاہتا ہے تو یہ مُنافَقَت ہے اور جب تک دل سے بُرا نہ جانے گناہ سے باہَر نہ ہوگا،فَقَط ہاتھ یا اپنے اَبرو یا پیشانی کے اِشارے سے چُپ کرانا کافی نہ ہوگا کیوں کہ یہ سُستی ہے اور غیبت جیسے گناہ کو معمولی سمجھنے کی علامت ہے،(اگر فساد کااندیشہ نہ ہو تو)غیبت کرنے والے کو سختی سے واضح الفاظ میں روکے۔
 (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۸۰)
تاجدارِ مدینہ منوّرہ، سلطانِ مکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:جس شخص کے پاس کسی مومن کو ذلیل کیا جارہا ہو اور وہ طاقت (رکھنے )کے باوُجُود اس کی مدد نہ کرے اللہ تعالیٰ قِیامت کے دن لوگوں کے سامنے اسے رُسواکریگا۔
(مُسندِ اِمام احمد ج۵ ص۴۱۲ حدیث۱۵۹۸۵)
علَماء کو عوام نہ ٹوکیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیبت سے روکنے والے کیلئے اتنی معلومات ہونا ضَروری ہے کہ وہ گناہوں بھری غیبت کی پہچان رکھتا ہو نیز روکتے وَقت اپنی بات کا وَزن دیکھنا بھی بَہُت ضَروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی کومَنع کریں اور کوئی فِتنہ کھڑا ہو جائے یہ بات بھی ذِہن میں رکھئے کہ بعض اوقات بالخصوص اہلِ علم حضرات کی کوئی بات سرسری طور پر سننے والے کو غیبت لگتی ہے مگر درحقیقت وہ گناہوں بھری غیبت نہیں ہوتی کیوں کہ غیبت کی جائز صورَتیں بھی موجود ہیں،مُحاورہ ہے:
خَطائے بُزُرگان گرِفْتَن خَطا اَسْت
یعنی ''بُزُرگوں پر اعتراض کرنا ان کی خطا پکڑنا خود خطا ہے ۔''لہٰذا علمائے کرام کو عوام ہرگز نہ ٹوکیں اور ان کے لئے دل میں مَیل بھی نہ لائیں۔ہاں اگر آپ کو غیبت کے بارے میں معلومات ہوں اور وہ عالم صاحب واقِعی صریح غیبت کر رہے
Flag Counter