| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
غیبت کرنے والے کے سامنے تعریف
ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی کسی سے مسلمان کی غیبت سنتے تو اُسے فوراً ٹوکتے اور ان کاانداز بھی کتنا حَسین ہوتا ! چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس میں ایک شخص نے سیِّدُناامام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غیبت کی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:اے شخص !تُو امام کے عیب کیوں بیان کرتا ہے!ان کی شان تویہ تھی کہ پینتالیس سال تک ایک وُضو سے پانچوں وقت کی نماز ادا کرتے رہے۔
(اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان لِلْہَیْتَمِی ص۱۱۷،رَدُّالْمُحتار ج۱ص۱۵۰)
غیبت کرنے والے سے پیچھا چھڑانے کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کا گناہوں بھری غیبت سننے سے بچنے کاجذبہ مرحبا!کاش!صدکروڑ کاش! ہمارا یہ ذِہن بن جائے کہ جُوں ہی کسی مسلمان کا مَنفی(NEGATIVE)تذکِرہ نکلے فوراً خبردار ہو جائیے اور غور کیجئے،اگر وہ تذکِرہ غیبت پر مبنی یا غیبت کی طرف لے جانے والاہو تو فوراً اِس سے باز آجایئے ،اگرکوئی اورآدَمی یہ گفتگو کرنے لگا ہو تو اُس کو مناسِب طریقے پر روک دیجئے، اگر وہ باز نہ آئے تو وہاں سے اُٹھ جایئے ، اگر اُسے روکنا یا اپنا وہاں سے ہٹنا ممکن نہ ہو تو دل میں بُرا جانیئے، ترکیب سے بات بدل دیجئے اُس گفتگو میں دلچسپی مت لیجئے،مَثَلاً اِدھر اُدھر دیکھنے لگ جایئے ، منہ پر بیزاری کے آثار لایئے،بار بار گھڑی دیکھ کر اُکتاہٹ کا اِظہار فرمایئے، ممکن ہوتو استنجا خانے کا کہہ کرہی اٹھ جایئے اور پھرآپ کا کہا جھوٹ نہ ہو جائے اس لئے استنجا بھی کرلیجئے۔''غیبت گاہ''میں حاضِر رہنے کے بجائے مجبوراً استنجا خانے میں وقت گزارنا بَہُت مناسِب عمل ہے
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
اس پر بھی ثواب ملیگا۔
اَخلاق ہوں اچّھے مِرا کردار ہو ستھرا محبوب کے صدقے میں مجھے نیک بنادے