| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
غیبت سے روکنے کے چار فضائل
مسلمان کی غیبت کرنے والے کو روکنے کی قدرت ہونے کی صورت میں روک دینا واجِب ہے، روکنا ثوابِ عظیم اور نہ روکنا باعِث عذابِ الیم (یعنی درد ناک عذاب کاباعث)ہے اس ضِمْن میں چار فَرامینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مُلاحَظہ فرمایئے : (1)جس کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس کی مدد پر قادِر ہو اور مدد کرے، اﷲ تعالیٰ دنیا اور آخِرت میں اس کی مدد کریگا اور اگر باوُجُودِ قدرت اس کی مدد نہیں کی تو اﷲ تعالیٰ دنیا اورآخِرت میں اسے پکڑے گا۔
(مُصَنَّف عَبد الرَّزّاق ج۱۰ ص۱۸۸ رقم ۲۰۴۲۶)
(2)جو شخص اپنے بھائی کے گوشت سے اس کی غیبت (عدم موجودگی)میں روکے(یعنی مسلمان کی غیبت کی جارہی تھی اس نے روکا )تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اُسے جہنَّم سے آزاد کر دے ۔
(مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ج ۳ص ۷۰ حدیث ۴۹۸۱)
(3)جو مسلمان اپنے بھائی کی آبرو سے روکے( یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نے منع کیا) تواللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کو جہنَّم کی آگ سے بچائے۔ اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی:۔
وَکَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۴۷﴾
(ترجَمہ کنزالایمان:اور ہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔
(پ۲۱ الروم:47) (شرحُ السنّۃ ج۶ ص۴۹۴ حدیث ۳۴۲۲)
(4)جہاں مردِ مسلم کی ہَتکِ حُرمت(یعنی بے عزَّتی)کی جاتی ہو اور اس کی آبروریزی کی جاتی ہو ایسی جگہ جس نے اُس کی مدد نہ کی(یعنی یہ خاموش سنتا رہا اور اُن کومَنع نہ کیا)تو اﷲتعالیٰ اس کی مدد نہیں کرے گا جہاں اِسے پسند ہو کہ مدد کی جائے اور جو شخص مردِ مسلم کی مدد کرے گا ایسے موقع پر جہاں اُس کی ہتکِ حُرمت (یعنی بے عزّتی)اور آبرو ریزی کی جارہی ہو، اﷲتعالیٰ اُس کی مدد فرمائے گا ایسے موقع پر جہاں اسے محبوب (یعنی پسند)ہے کہ مدد کی جائے۔
(سُنَنِ ابوداو،د ج۴ ص۳۵۵حدیث ۴۸۸۴)