اِس روایت سے نیکی کی بات سیکھنے سکھانے کا اجر و ثواب معلوم ہوا ۔ سیکھنے سکھانے کی نیَّت سے سُنَّتوں بھرا بیان کرنے یا درس دینے اور سننے والوں کے تو وارے ہی نیارے ہو جائیں گے ،
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
اُن کی قبریں اندرسے جگمگ جگمگ کررہی ہوں گی اور انہیں کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوگا ۔اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے نیکی کی دعوت دینے والوں ، مَدَ نی قافِلے میں سفر اور فکرِ مدینہ کرکے مَدنی ان عامات کا رسالہ روزانہ پُر کرنے کی ترغیب دلانے والوں اور سنّتوں بھرے اجتِماع کی دعوت پیش کرنے والوں بہ نیَّت ثواب نیز مُبَلِّغین کی نیکی کی دعوت کو سننے والوں کی قُبور بھی
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
حُضُور مُفِیضُ النُّورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نور کے صدقے
قبر میں لہرائیں گے تا حَشر چشمے نور کے
جلوہ فرما ہوگی جب طَلعَت رسولُ اللہ کی
(حدائقِ بخشِش )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرم کہیں کھانے کی دعوت پر تشریف لے گئے، لوگوں نے آپس میں کہا کہ فُلاں شخص ابھی تک نہیں آیا۔ ایک شخص بولا :وہ موٹا تو بڑاسُست ہے۔ اس پر حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرم