ابنِ مُلجِم نے مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ کو کیوں شہید کیا؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے!مولیٰ علی شیرِ خدا
كَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم
کے قاتل کا جو کہ خارجی بددین و گمراہ تھا کیسا درد ناک انجام ہوا!وہ بدنصیب کیوں اِتنا بڑا گناہ کرنے کیلئے آمادہ ہوا اِس سلسلے میں حضرتِ علامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی نے ''مُستدرَک''کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابنِ مُلجِم ایک قِطام نامی خارِجِیہ عورت کے عشقِ مجازی میں گرفتار ہو گیا تھا ،اُس نے شادی کیلئے مہر میں تین ہزار درہم اور حضرت مولیٰ علی
كَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم
کے قتل کا مطالبہ رکھا تھا۔
(تارِیخُ الْخُلَفاء ص۱۳۹،اَلْمُستَدرَک ج۴ ص ۱۲۱رقم ۴۷۴۴)
افسوس !عشقِ مجازی میں ابنِ مُلجِماندھا ہو گیا اور اس نے حضرتِ مولائے کائنات ، مولیٰ علی شیرِ خدا
كَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم
جیسی عظیم ہستی کو شہید کر دیا، اِس نابَکار کو وہ عورت تو خاک ملنی تھی ہاتھوں ہاتھ یہ سزا ملی کہ لوگوں نے دیکھتے ہی دیکھتے اُسے پکڑ لیا، بِالاخِر اُس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ٹوکرے میں ڈال کر آگ لگادی گئی اور وہ جل کر خاکِستَر ہو گیا !اور مرنے کے بعدتا قِیامت جاری رہنے والے اس کے لرزہ خیزعذاب کا ابھی آپ نے تذکِرہ سنا۔ وہ بدبخت ، نہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا رہا۔حضرت سیِّدُنا ابو الدّرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بالکل سچ فرمایا ہے کہ''شہوت کی گھڑی بھر کیلئے پیروی طویل غم کا باعث بنتی ہے ۔''(صحابی کا قول یہیں تک ہے)قابیل بھی تو شَہْوت ہی کی وجہ سے حضرتِ سیِّدُنا ہابیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو شہید کر کے برباد ہوا اور برباد بھی کیسا ہوا کہ صرف سُن کر ہی جُھر جھری آجائے!تو اِس کی بھی حکایت مُلا حَظہ فرمایئے اورشَہوت کی آفت سے ربُّ العزَّت کی پناہ مانگئے: