عِصْمَہ عَبَّادَانِی کہتے ہیں:میں کسی جنگل میں گھوم رہا تھا کہ میں نے ایک گِرجا دیکھا،گِرجا میں ایک راہب کی خانقاہ تھی اس کے اندر موجود راہب سے میں نے کہا کہ تم نے اِس (ویران)مقام پرجو سب سے عجیب و غریب چیز دیکھی ہووہ مجھے بتاؤ!تواُ س نے بتایا: میں نے ایک روز یہاں شُتَر مُرغ جیسا ایک دیو ہیکل سفید پرندہ دیکھا،اُس نے اُس پتّھر پر بیٹھ کرقَے کی، اس میں سے ایک انسانی سر نکل پڑا ،وہ برابر قے کر تا رہا اور انسانی اعضا ء نکلتے رہے اور بجلی کی سی سُرعَت (یعنی پُھرتی )کے ساتھ ایک دوسرے سے جُڑتے رہے یہاں تک کہ وہ مکمَّل آدَمی بن گیا!اُس آدَمی نے جوں ہی اُٹھنے کی کوشش کی اُس دیو ہیکل پرندے نے اُس کے ٹُھونگ ماری اور اُس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، پھر نگل گیا۔ کئی روز تک میں یہ خوفناک منظر دیکھتا رہا، میرا یقین خداعَزَّوَجَلَّ کی قدرت پر بڑھ گیا کہ واقِعی اللہ تعالیٰ مار کر جِلانے پر قادِرہے ۔ ایک دن میں اُس دیو ہیکل پر ندے کی طرف مُتَوَجِّہ ہوا اور اُس سے دریافت کیا کہ اے پرندے!میں تجھے اُس ذات کی قسم دے کر کہتا ہوں جس نے تجھ کو پیدا کیا کہ اب کی بار جب وہ انسان مکمَّل ہو جائے تو اس کو باقی رہنے دینا تا کہ میں اس سے اس کا عمل معلوم کر سکوں ؟ تو اُس پرندے نے فَصِیح عَرَبی میں کہا: میرے رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہی بادشاہت اوربَقا ہے ہر چیز فانی ہے اور وُہی باقی ہے میں اُس کا ایک فِرِشتہ ہوں اور اِس شخص پر مُسلَّط کیا گیا ہوں تا کہ اس کے گناہ کی سزا دیتا رہوں۔''جب قے میں وہ انسان نکلا تو میں نے اس سے پوچھا:اے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے انسان!تو کون ہے اور تیرا قصّہ کیاہے ؟ اُس نے جواب دیا :میں ''حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ الْمُرتَضٰی شیرِ خدا