Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
197 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ!           اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(4) قبر میں بھیانک کالا سانپ
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں کچھ لوگ حاضِر ہوئے اور عرض کی:ہم سفرِ حج پر نکلے ہوئے ہیں، مقامِ صِفاح پر ہمارے قافِلے کا آدمی فوت ہو گیا ہے۔ ہم نے اس کے لئے جب قَبْر کھودی توایک بَہُت بڑاکالا سانپ بیٹھا نظر آیا،جس نے قَبْر کوبھر رکھا تھا اُسے چھوڑ کر دوسری قَبْر کھودی تو اس میں بھی وُہی سانپ نظر آیا۔ آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اس گمبھیر مسئلے کے حل کی خاطر حاضِر ہوئے ہیں ۔حضرتِ سیِّدُناعبداللہ ابن عبّاس ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:''یہ اس کی خیانت کی سزا ہے جس کا وہ مرتکب ہوا کرتا تھا۔''اور بَیْھَقی کے الفاظ یہ ہیں :
ذَاکَ عَمَلُہُ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُ
یعنی''یہ اُس کے عمل کی سزا ہے جو وہ کیاکرتا تھا۔''آپ حضرات اُسے ان دونوں میں سے کسی ایک قَبْر میں دفن کر دی جئے، خدا کی قسم!اگر اس دنیا کی ساری زمین بھی کھود ڈالیں گے تب بھی ہر جگہ یہی کچھ پائیں گے ۔''بالآخر ہم نے اُس کو سانپ بھری قَبْر میں دفنا دیا۔واپَس آ کر ہم نے اس کا سامان اس کے گھر والوں کو دے دیا اور اس کی بیوہ سے اس کے اعمال کے بارے میں سُوال کیا تو اس نے بتایا:یہ کھانا بیچتا تھا اور اُس میں سے اپنے گھر والوں کے لئے کچھ نکال لیتا تھا پھر کمی پوری کرنے کے لئے اُس میں اُتنی ہی مِلاوٹ کر دیتا تھا۔
 (شَرْحُ الصُّدُورص۱۷۴،شُعَبُ الْاِیمان ج۴ ص۳۳۴ حدیث۵۳۱۱ )
دھوکہ بازی جہنَّم سے ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!ضَرورتاًعبرت کیلئے مُردے کی برائی بیان کرنا جائز تھا جبھی تو حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اُس مرے ہوئے حاجی کی برائی بیان فرمائی نیز جواز ہی کے سبب بلند پایہ محدِّثین نے اس حکایت کو اپنی اپنی کتب میں نقل
Flag Counter