صحابہ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کو گالیاں دیناگناہ، گناہ بَہُت سخت گناہ ،قطعی حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 192 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''سَوانِحِ کربلا''صَفْحَہ31پر ہے:حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مُغَفَّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حُضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ میرے اَصحاب کے حق میں خدا سے ڈرو !خدا کا خوف کرو!!انھیں میرے بعد نشانہ نہ بناؤ،جس نے انھیں محبوب رکھا میری مَحَبَّت کی وجہ سے محبوب (یعنی پیارا)رکھا اور جس نے ان سے بُغض کیا وہ مجھ سے بُغض رکھتا ہے، اس لئے اُس نے ان سے بُغض رکھا، جس نے انھیں اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی، جس نے مجھے اِیذا دی اُس نے بیشک خدائے تعالیٰ کو اِیذا دی ،جس نے اللہ تعالیٰ کو اِیذا دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے گرفتار کرے۔
(سُنَنِ تِرمِذی ج۵ ص۴۶۳ حدیث۳۸۸۸)
صَحابہ کرام علیھم الرضوان کانہایت ادب کیجئے
صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں:مسلمان کو چاہیے کہ صَحابہ کِرام (علیھم الرضوان )کا نہایت ادب رکھے اور دل میں ان کی عقیدت ومَحَبَّت کو جگہ دے۔ ان کی مَحَبَّت حُضُور (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کی مَحَبَّت ہے اور جو بد نصیب صَحابہ(علیھم الرضوان )کی شان میں بے ادَبی کے ساتھ زَبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول(عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) ہے۔مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھے۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ؎
اہلسنّت کا ہے بَیڑا پار اَصحابِ حُضُور
نَجم ہیں اور ناؤ ہے عِترَت رسولُ اللہ کی
(یعنی اہلسنَّت کا بیڑا پار ہے کیوں کہ صَحابہ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان ان کیلئے ستاروں کی مانند اور اہلبیت اَطہارعَلَیْھِمُ الرِّضْوان کشتی کی طرح ہیں)