صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(2)بے دین کی گردن میں سانپ
حَافِظْ اَبُوْخَلَّال نے''کتاب کراماتُ الاولیاء''میں اپنی سند سے روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن ہاشم نے فرمایا:میں ایک میِّت کو نہلانے گیا، جب میں نے اُس کے جسم سے کپڑا کھولا تو اُس کی گردن پر سانپ لپٹے ہوئے تھے! میں نے ان سانپوں سے کہا کہ آپ کو اِس پر مُسلَّط کیا گیا ہے اور ہمیں اس کو غسل دینا ہے، اگر آپ اجازت دیں تو ہم اِس کو غسل دے دیں پھر آپ اپنی جگہ واپَس آجایئے، تو وہ سانپ ہٹ کر ایک کونے میں ہوگئے۔ جب ہم غسلِ میِّت سے فارِغ ہوئے تو وہ اپنی جگہ واپَس آ گئے۔ یہ شخص بے دینی(یعنی گمراہی)میں مشہور تھا۔
(3)گردن میں سانپ لپٹا ہوا تھا
حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق علیہ رَحمَۃُ اللہِ الرَّزّاق فرماتے ہیں:مجھے ایک میِّت کو غسل دینے کے لیے بلایا گیا، جب میں نے اُس کے چِہرے سے کپڑا ہٹا یا تو اُس کی گردن میں سانپ لپٹا ہوا تھا، لوگوں نے بتایا کہ یہ صحابہ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کو گالیاں دیتا تھا ۔ (معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ)