Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
195 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کا کتنا پیارا عقیدہ تھا چُنانچِہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حدائقِ بخشش شریف کا شِعر سنئے اور ایمان تازہ کی جئے۔ ؎
سرِ عرش  پر ہے تری گزر، دلِ فرش  پر ہے  تری نظر

ملکوت و مُلک میں کوئی شے ،نہیں وہ جو تجھ پہ عِیاں نہیں
(یعنی یارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی عنایت سے عرش آپ کی گزرگاہ ہے اور فرش زیرِنِگاہ ہے۔ اَلغرض ملائکہ کا ہوں یا عالمِ ارواح ،کائنات میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوشیدہ ہو)
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(2)بے دین کی گردن میں سانپ
حَافِظْ اَبُوْخَلَّال نے''کتاب کراماتُ الاولیاء''میں اپنی سند سے روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن ہاشم نے فرمایا:میں ایک میِّت کو نہلانے گیا، جب میں نے اُس کے جسم سے کپڑا کھولا تو اُس کی گردن پر سانپ لپٹے ہوئے تھے! میں نے ان سانپوں سے کہا کہ آپ کو اِس پر مُسلَّط کیا گیا ہے اور ہمیں اس کو غسل دینا ہے، اگر آپ اجازت دیں تو ہم اِس کو غسل دے دیں پھر آپ اپنی جگہ واپَس آجایئے، تو وہ سانپ ہٹ کر ایک کونے میں ہوگئے۔ جب ہم غسلِ میِّت سے فارِغ ہوئے تو وہ اپنی جگہ واپَس آ گئے۔ یہ شخص بے دینی(یعنی گمراہی)میں مشہور تھا۔
(شَرْحُ الصُّدُورص۱۷۷)
 (3)گردن میں سانپ لپٹا ہوا تھا
حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق علیہ رَحمَۃُ اللہِ الرَّزّاق فرماتے ہیں:مجھے ایک میِّت کو غسل دینے کے لیے بلایا گیا، جب میں نے اُس کے چِہرے سے کپڑا ہٹا یا تو اُس کی گردن میں سانپ لپٹا ہوا تھا، لوگوں نے بتایا کہ یہ صحابہ کرام عَلَیْھِمُ  الرِّضْوان کو گالیاں دیتا تھا ۔ (معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ)
(شَرْحُ الصُّدُور ص ۱۷۳)
Flag Counter