6مردوں کی سنسنی خیز حکایات
لوگوں کی عبرت کیلئے فوت شدہ مسلمانوں کی برائی بیان کرنے میں بھی شرعاً حرج نہیں ہیمحَدِّثین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام نے مسلمانوں کو گناہوں سے ڈرانے کیلئے کتابوں میں مرے ہوئے کافِروں کے علاوہ بدمذہبوں اور مسلمانوں کے عذابوں کے بھی تذکِرے فرمائے ہیں چُنانچِہ اس ضِمن میں چھ مُردوں کی سنسنی خیز حکایات مُلاحَظہ فرمایئے:
حضرتِ سیِّدُنا ابو رافِع ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ بقیع میں گزرا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اُف !اُف!تو میں نے گُمان کیا کہ شاید آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرا اِرادہ فرماتے ہیں ۔ میں نے عرض کی:۔یا رسولَ اللہ!عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی؟ فرمایا:نہیں، بلکہ اس قَبْر والے شخص کو میں نے بنو فُلاں کے پاس صدقہ وُصول کرنے بھی جا تھا تو اس نے ایک چادر بطورِ خیانت بچالی تھی۔ آخر ویسا ہی آگ کاکُرتا اس کو پہنا یاگیا۔
(سُنَنِ نَسائی ص ۱۵۰حدیث ۸۵۹)
سرکارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کچھ چُھپا ہوا نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!درسِ عبرت دینے کیلئے اِس حدیثِ پاک میں فوت شدہ شخص کے عذابِ قبر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اِس روایت سے یہ بھی روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوا کہ ہمارے مکّی مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے علمِ غیب رکھتے ہیں جبھی تو قَبْر میں ہونے والے عذاب کے ساتھ ساتھ سببِ عذاب کی بھی ہاتھوں ہاتھ خبر ارشاد فرما دی ۔