| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
غَسّال مُردے کی بُرائی بیان نہ کرے
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''جلد اوّل صَفْحَہ 811پر ہے:(میِّت کو غسل دیتے وقت)جو اچّھی بات دیکھے مَثَلًا چہرہ چمک اٹھا یا میِّت کے بدن سے خوشبو آئی،تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کر ے اور کوئی بُری بات دیکھی ،مَثَلًا چِہرے کا رنگ سیاہ ہو گیایا بدبو آئی یاصورت واعضا میں تَغیُّر(تَ۔غَ۔یُّر) آیا تو اسے کسی سے نہ کہے اور ایسی بات کہنا جائز بھی نہیں کہ حدیث میں ارشاد ہوا:''اپنے مردوں کی خوبیاں ذکر کرو اور اس کی بُرائیوں سے باز رہو۔''
مرنے کے بعد بُلند آواز سے کلمہ پڑھا!
اگر کسی مسلمان نے مرتے وَقت بظاہر کلمہ نہ پڑھا اور کسی نے کہا کہ''اِس کو کلمہ نصیب نہیں ہوا''اُس نے اِس مرنے والے کی غیبت کی، اِس ضِمن میں ایک ایمان افروز حکایت مُلاحَظہ فرمایئے چُنانچِہ حضرتِ علامہ عبد الحیی لکھنوی علیہ رَ حمۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں: میرے بُزُرگوں میں ایک ولیُّ اللہ یعنی مولانا محمد اظہار الحق لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انتِقال کیا اور مرتے وَقت ان کی زَبان سے کلمہ نہ نکلا ، لوگوں نے ان پر چادر ڈال دی اور تجہیز و تکفین کا انتِظام کیا، جب سب لوگ باہَر نکلے تو بعضوں نے بطورطَعن کے کہا کہ ظاہِر میں نہایت مُتَّقِی تھے اور مرتے وقت زَبان سے کلمہ بھی نہ نکلا ، اس بات سے تمام حاضِرین کو رنج ہوا، اتنے میں مولانا مرحوم نے دونوں پاؤں کو سمیٹا اور بآواز بُلند کلمہ پڑھا ، جب لوگوں کے کانوں میں آواز پہنچی تو طَعن کرنے والوں کو لوگوں نے مَطعُون کیا(یعنی بُرا بھلا کہا)۔
(غیبت کیا ہے ص ۱۹)
مرے ہوئے کافر کی غیبت
شارِح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں :کُفّار کی بُرائی بیان کرنی جائز ہے اگر چِہ وہ مرگئے ہوں البتّہ اگر مرنے والے کفّار کے اہل و عیال مسلمان ہوں اور ان کے کافِر ماں باپ ،اُصول (یعنی دادا وغیرہ)کی بُرائی کرنے سے انہیں اِیذا پہنچے تو اس سے بچنا