Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
192 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے کتاب میں مجھ پر درود پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
''فُلاں نے خود کشی کر لی''یہ کہنا غیبت ہے
معلوم ہوا فوت شدہ لوگوں کی بُرائی کرنا بھی غیبت ہے۔ بعض اوقات بڑا صَبْر آزما مُعامَلہ ہوتا ہے ۔ مَثَلاً ڈاکو، دہشت گرد، اپنے عزیز کے قاتل وغیرہ قتل کر دیئے جائیں یا انہیں پھانسی لگا دی جائے تو بعض اوقات لوگ غیبت کے گناہ میں پڑ ہی جاتے ہیں ۔ اسی طرح خود کشی کرنے والے مسلمان کے بارے میں بِلا اجازتِ شرعی یہ کہدینا کہ ''فُلاں نے خود کشی کی''یہ غیبت ہے یوں ہی نام و پہچان کے ساتھ کسی مسلمان کی خود کشی کی اخبار میں خبر بھی نہ لگائی جائے کہ اس سے مرنے والے کی غیبت بھی ہوتی اور اس کے ساتھ ساتھ مرحوم کے اہل وعیال کی عزّت پر بھی بٹّا لگتا ہے۔ ہاں اس انداز میں تذکرہ کیاکہ پڑھنے یا سننے والے خود کشی کرنے والے کو پہچان ہی نہ پائے کہ وہ کون تھا تو حرج نہیں مگر یہ ذِہن میں رہے کہ نام نہ لیا مگر گاؤں ، مَحَلّہ ، برادری، اوقات ،خود کشی کا اندازوغیرہ بیان کرنے سے خود کشی کرنے والے کی شناخت ممکن ہے لہٰذا پہچان ہو جائے اِس انداز میں تذکرہ بھی غیبت میں شمار ہو گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان خود کشی کرنے سے اسلام سے خارِج نہیں ہو جاتا اِس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی ،اِس کیلئے دعائے مغفِرت بھی کریں گے، مرنے والے مسلمان کو بُرائی سے یاد کرنے کی شریعت میں اجازت نہیں۔اِس ضِمْن میں دوفرامینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مُلا حَظہ ہوں:(1)اپنے مردوں کو بُرا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔
 (بُخاری ج۱ ص ۴۷۰ حدیث ۱۳۹۳)
(2)اپنے مُردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی بُرائیوں سے باز رہو۔
 (سُنَنِ تِرمِذی ج ۲ ص ۳۱۲ حدیث ۱۰۲۱)
حضرتِ علامہ محمد عبد الرء ُوف مُناوِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی لکھتے ہیں:مردے کی غیبت زندے کی غیبت سے بدتر ہے ،کیونکہ زندہ شخص سے مُعاف کروانا ممکن ہے جبکہ مُردہ سے مُعاف کروانا ممکن نہیں۔
(فَیْضُ الْقَدِیر لِلْمُناوِی ج۱ص۵۶۲تَحتَ الْحدیث۸۵۲)
Flag Counter