Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
191 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
یہ معنیٰ کہ مَثَلًا ایک شخص سے دس بار جُوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہ، اُس(یعنی سامنے والے جواری)کے جیتنے کی(رقم کی)مقدار مَثَلًا سو روپے کو پہنچی، اور یہ(خود)سب دَفعَہ کے مِلا کر سوا سو جیتا، تو سو سو برابر ہوگئے، پچیس اُس (یعنی سامنے والے جواری)کے دینے رہے۔ اِتنے ہی اسے واپس دے۔
وَعَلٰی ھٰذَا القِیاس
(یعنی اور اسی پر قیاس کر لیجئے )اورجہاں یاد نہ آئے کہ(جُوا کھیلنے والے)کون کون لوگ تھے اور کتنا(مال جُوئے میں جیت)لیا، وہاں زیادہ سے زیادہ(مِقدار کا)تخمینہ (تَخ۔مِی ۔ نَہ ۔ یعنی اندازہ)لگائے کہ اِس تمام مدّت میں کس قَدَر مال جوئے سے کمایا ہوگا اُتنا مالِکوں(یعنی اُن نامعلوم جواریوں)کی نیّت سے خیرات کردے، عاقِبت یونہی پاک ہوگی۔
وَاللہ تعالٰی اَعلم۔
(فتاوٰی رضویہ ج۱۹ ص۶۵۱)
فوت شدہ کی بُرائی کرنا بھی غیبت ہے
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ماعِزاسلمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جب رجم کیا گیا تھا،(یعنی زنا کی ''حد''میں اتنے پتّھر مارے گئے کہ وفات پا چکے تھے)دو شخص آپس میں باتیں کرنے لگے، ایک نے دوسرے سے کہا:اسے تو دیکھو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی مگر اس کے نفس نے نہ چھوڑا،
رُجِمَ رَجْمَ الْکَلْبِ
یعنی کُتّے کی طرح رَجم کیا گیا۔حُضُورِ پُرنورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سن کرسُکُوت فرمایا (یعنی خاموش رہے)۔کچھ دیر تک چلتے رہے، راستے میں مرا ہوا گدھا ملا جو پاؤں پھیلائے ہوئے تھا۔ سرکارِ والا تبار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان دونوں شخصوں سے فرمایا: جاؤ اس مُردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ انھوں نے عرض کی:یا نبیَّ اﷲعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! اسے کون کھائے گا؟ ارشاد فرمایا: وہ جو تم نے اپنے بھائی کی آبروریزی کی، وہ اس گدھے کے کھانے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ قسم ہے اُس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!وہ (یعنی ماعز)اِس وَقت جنَّت کی نَہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔
(سُنَنِ ابوداو،د ج۴ ص۱۹۷حدیث ۴۴۲۸ )
Flag Counter