Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
190 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
خریدنے والوں کو قُرعہ اندازی کر کے اِنعامات دیتی ہیں یہ جائز ہے کیوں کہ اس میں کسی کی بھی رقم نہیں ڈوبتی۔
6 مختلف كھیلوں میں شرط لگانا:
ہمارے یہاں مختلف کھیل مَثَلاًگُھڑ دَوڑ ،کرکٹ،کَیرم ،بِلیرڈ ،تاش ، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کواتنی رقم یا فُلاں چیز دے گا یہ بھی جوا ہے اور ناجائز وحرام ۔کیرم اوربِلیرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وَقت عُمُوماً یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کریگا ،یہ بھی جُوا ہے ۔بعض ''نادان''گھروں میں مختلف کھیلوں مَثَلاً تاش یالوڈو پردوطرفہ شرط لگاکر کھیلتے ہیں اور کم علمی کے باعِث اِس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے وہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جُوا ہے اورجُوا حرام ا ور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
جوئے سے توبہ کا طریقہ
جُوا کھیلنے والا اگر نادم ہوا تو اُس کو چاہے کہ بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں سچّی توبہ کرے مگر جو کچھ مال جیتا ہے وہ بدستور حرام ہی رہے گا اس ضِمْن میں رہنمائی کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے۔اور اس سے بَراءَ ت (یعنی نَجات)کی یِہی صورت ہے کہ جس جس سے جتناجتنا مال جِیتاہے اُسے واپَس دے، یا جیسے بنے اُسے راضی کرکے مُعاف کرالے۔ وہ نہ ہو تو اُس کے وارِثوں کو واپَس دے، یا اُن میں جو عاقِل بالِغ ہوں ان کا حصّہ اُن کی رِضامندی سے مُعاف کرالے۔ باقیوں کا حصّہ ضَرور انہیں دے کہ اِس کی مُعافی ممکن نہیں، اورجن لوگوں کا پتاکسی طرح نہ چلے، نہ اُن کا، نہ اُن کے وَرَثہ کا ، اُن سے جس قَدَر جیتا تھا اُن کی نیّت سے خیرات کردے، اگرچِہ (خود)اپنے(ہی)محتاج بہن بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے۔آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:غَرَض جہاں جہاں جس قَدَر یاد ہو سکے کہ اِتنامال فُلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑاتھا، اُتنا تو انہیں یا اُن کے وارِثوں کو دے، یہ نہ ہوں تواُن کی نیّت سے تصدُّق (یعنی صدقہ )کرے، اورزیادہ پڑنے کے
Flag Counter