Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
188 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
جُوا کی تعریف
جُوا کو عربی میں قِمار کہتے ہیں اس کی تعریف ملاحَظہ فرمایئے:حضرت میرسیّد شریف جُرجانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبّانی لکھتے ہیں:ہر وہ کھیل جس میں یہ شر ط ہو کہ مغلوب(یعنی ناکام ہونے والے)کی کوئی چیز غالِب (یعنی کامیاب ہونے والے )کو دی جائے گی یہ''قِمار''(یعنی جُوا)ہے ۔
(التّعریفات ص ۱۲۶)
جُوئے کی6 صُورتیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل دنیا میں جوئے کے نت نئے طریقے رائج ہیں ، ان میں سے 6 یہ ہیں :
1 لاٹری :
اس طریقہ کار میں لاکھوں کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قُرعَہ اندازی کے ذَرِیعے کامیاب ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپے تقسیم کردئیے جاتے ہیں جبکہ بَقِیَّہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے ،یہ بھی جُوا ہی کی ایک صورت ہے جو کہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
2 پرائز بانڈ كی پرچی:
حکومتِ پاکستان 200۔750۔ 1500۔7,500۔15,000۔40,000)روپے کی قیمت کے انعامی بانڈزبینک کے ذَرِیعے جاری کرتی ہے اورجَدوَل کے مطابِق ہر ماہ قُرعہ اندازی کے ذَرِیعے کروڑوں روپے کے اِنعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہے ،جس کا انعام نہیں نکلتا اُس کی بھی رقم محفوظ رہتی ہے وہ اسے جب چاہے بُھنا (یعنی کیش کروا)سکتا ہے ۔ یہ جَواز(یعنی جائز ہونے)کی صورت ہے اور جُوئے میں داخِل نہیں۔ لیکن اس کے مُتَوازی بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں ان پرچیوں کی خریدو فروخت،غیر قانونی ناجائز و حرام ہے کیونکہ بیچنے والا حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈز اپنے ہی پاس رکھتا ہے(بلکہ بعض اوقات تو پرائز بانڈز بھی بیچنے والے کے پاس نہیں ہوتے )پرچی بیچنے والا خریدار کو قلیل رقم کے بدلے پرچی پر محض ایک نمبر لکھ کر
Flag Counter