رء ُوفٌ رَّحیم علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم
نے فرمایا :جس نے نَردشَیر (جُوا کھیلنے کا سامان)سے جُوا کھیلاتو گویااُس نے اپنا ہاتھ خِنزیر کے گوشت اور خون میں ڈَبو یا۔
(سُنَنِ اِبن ماجہ ج۴ ص۲۳۱ حدیث۳۷۶۳)
جوئے کی دعوت دینے والا کفّارے میں صَدَقہ کرے
حُضُورنبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا ارشادِ عبرت بُنیادہے:جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا : ''آؤ!جُوا کھیلیں ۔''تواُس (کہنے والے)کو چاہے کہ صدقہ کرے ۔
(صَحیح مُسلِم ص۸۹۴ حدیث۱۶۴۷)
حضرت علامہ یحییٰ بن شرف نَوَوِی علیہ رحمۃ اللہ القوی اِس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :علماء فرماتے ہیں کہ سرکارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم نے صَدَقہ کرنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ اس شخص نے گناہ کی دعوت دی تھی ، حضرت علامہ خِطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا کہ جتنے پیسوں کا جُوا کھیلنے کا کہا تھا اُتنے پیسوں کا صَدَقہ کرے مگر صحیح وہ ہے جو محقِّقِین نے کہا ہے اوریِہی حدیثِ پاک کا ظاہِر ہے کہ صَدَقہ کی کوئی مِقدارمُعَیَّن نہیں ، آسانی سے جتنا صَدَقہ کرسکے کردے ۔
(شَرح مُسلِم لِلنَّوَوِی ج۶ ص۱۰۷ )
میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 19صَفْحَہ646پر فرماتے ہیں :سود اور چوری اورغصب او رجوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔