معلوم ہوا کہ پیٹھ پیچھے کسی کے لباس کی خرابی کابیان کرنا بھی غیبت ہے لباس کے مُتَعَلَّق غیبت کی 24مثالیں مُلاحَظہ ہوں:(درج ذیل باتیں دُرُست ہوں تو غیبت ورنہ اس سے بڑے گناہ تہمت میں داخِل ہوں گی) *اُس کی آستین لمبی ہے *کپڑے بے ڈھنگے ہیں *کپڑے میلے ہیں* کپڑوں کو گندگی سے نہیں بچا تا * کپڑوں سے بدبو آتی ہے * کپڑوں کاڈیزائن صحیح نہیں* بڑے بھائی کا کُرتا چڑھا لیا ہے* اِس کو کپڑے پہننے کا ڈھنگ نہیں آتا * عمامہ صحیح سے باندھنا نہیں آتا *اُس کی چادر میلی چِکٹ ہو گئی ہے * موزے پھٹے ہوئے پہنتا ہے* لنڈا بازار کے (سیکنڈ ہینڈ)کپڑے پہنتا ہے* گھٹیا والا کپڑا ہے* عورتوں والے رنگوں کے کپڑے پہننے کا بَہُت شوق ہے* اس لباس میں تووہ مست ملنگ لگتا ہے* ذرا دیکھو تو بڑے بھائی کی قمیص اور چھوٹے بھائی کی شلوار چڑھالی ہے،کتنا عجیب لگ رہا ہے* کتناکنجوس ہے کہ اتنا پیسے والا ہو کر بھی کپڑے بالکل سادے پہنتا ہے * باپ چَپراسی ہے مگر بیٹے کے کپڑے تو دیکھو!* مانگا ہوا سوٹ پہنا ہو گا ورنہ اس کی اتنی اوقات کہاں!*یہ اس لئے پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ہے تا کہ پارٹیوں سے مال بٹورنا آسان ہو * جب دیکھو اس کے کپڑے کہیں نہ کہیں سے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں* اپنی غربت ظاہر کرنے اور لوگوں کی ہمدردیاں پانے کے لئے پیوند لگے کپڑے پہنتا ہے * قرضے لیکراتنا مہنگا سوٹ لینے کی اسے کیا ضرورت تھی*اُف!اُس نے کس قدر عجیب لباس پہنا ہوا تھا ۔