| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
کسی کے معیوب مرض کا تذکرہ کرنا
سلطانِ انبیائے کرام،شَہَنشاہِ خیرُ الانام، محبوبِ ربُّ السّلام عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابرکت میں ایک آدمی کا تذکِرہ کرتے ہوئے جب عرض کی گئی:فُلاں شخص خود نہیں کھا سکتا یہاں تک کہ کوئی اسے کِھلائے اور نہ ہی چل سکتا ہے یہاں تک کہ کوئی اسے چلائے۔ تو فرمایا:''تم نے اس کی غیبت کی۔''صَحابہ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان نے عرض کی:یا رسولَ اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !ہم نے تو وہ بات بیان کی ہے جو اُس میں موجود ہے۔ ارشاد فرمایا: غیبت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم نے اپنے بھائی کا عیب بیان کیا ۔
(حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۸ص۲۰۴رقم۱۱۸۸۳)
لولے لنگڑے کی غیبت
تابِعی بُزُرگ حضرت سیِّدُنامُعاوِیہ بن قُرَّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''اگر تمہارے پاس سے کوئی لُنجا (یعنی لولا یا لنگڑا)گزرے اور تم اُس کے لُنجا پن کے عیب کا تذکرہ کرو تو یہ بھی غیبت ہے۔''
(تفسیردُرّ مَنثورج۷ ص ۵۷۱)
معلوم ہوا کہ کسی لُنجے کو بھی بِلا اجازتِ شرعی پیٹھ پیچھے لُنجا کہنا غیبت ہے اِسی طرح کسی کو * لنگڑا * گنجا * اندھا *کانا *لُولا *تُتلا *ہکلا *گونگا*بہرا* کُبڑا وغیرہ کہنا بھی غیبت ہے۔
لباس کی خامی بتانا بھی غیبت ہے
اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاارشاد فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبیِّ پاک، صاحِب لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضِر تھی، میں نے ایک عورت کے بارے میں کہا:
اِ نَّ ھٰذِہٖ لَطَوِیْلَۃُ الذَّیْلِ
یعنی یہ لمبے دامن والی ہے۔ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اِلْفَظِیْ اِلْفَظِیْ
یعنی جو کچھ تیرے منہ میں ہے نکال پھینک۔ تو میں نے منہ سے گوشت کا ٹکڑا نکال کر پھینکا۔
(الصّمت مع موسوعۃ ابن اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۱۴۵حدیث ۲۱۶ )