حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کی دربارِ دُربار میں ہم لوگ حاضِر تھے کہ ایک آدمی جب اُٹھ کر چلا گیا تو صَحابہ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان نے عرض کی:یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !مَا اَضْعَفَ فُلا نًا!فلاں کتنا کمزور ہے!فرمایا:''تم نے اپنے رفیق(یعنی ساتھی) کی غیبت کی اور اس کا گوشت کھایا۔''
(مُسْنَد اَبِی یَعْلٰی ج۵ص۳۶۲ حدیث۶۱۲۵)
''غیبت مت کرو''کے نو حُرُوف کی نسبت سے کسی کی کمزوری کے اظہار کی غیبت کی 9 مثالیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا ، بِلا اجازتِ شرعی کسی کو ''کمزور''کہنا بھی غیبت میں داخِل ہے ۔اِسی طرح *سُوکھا ساکھا*مَریل * مَریل ٹٹّو * بُڈّھا پھونس(کُھوسٹ)*ہڈیوں کا ڈھانچہ*ہَڈپِنجر* قبر میں پاؤں لٹک چکے ہیں* سوکھی لکڑی *پھونک مارو تو اُڑ جائے وغیرہ الفاظ بھی غیبت کے ہیں کیوں کہ کوئی سمجھدار انسان اپنے لئے اِس طرح کے الفاظ سننا پسند نہیں کرتا۔
بچوں غیبتوں سے بچوں چغلیوں سے ہو تو فیق ایسی عطا یا الہٰی
زَباں پر لگام میری لگ جائے مولیٰ سدا تہمتوں سے بچا یا الٰہی